آرمی چیف کی مدت اب 5 سال ہے، غیر ضروری بحث چھیڑنا درست نہیں: رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ نے وضاحت کی کہ ماضی میں آرمی چیف کی مدت چار سال تھی، جسے 1976 میں کم کر کے تین سال کر دیا گیا تھا، مگر اب پارلیمنٹ نے اسے پانچ سال کر دیا ہے


وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مطابق آرمی چیف کی مدتِ ملازمت اب پانچ سال ہے، تو پھر توسیع کا سوال کہاں سے آ گیا؟
پنجاب اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے کہا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کو بلا وجہ موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، حالانکہ اب یہ مدت باقاعدہ طور پر پانچ سال مقرر کر دی گئی ہے، جو 2027 میں مکمل ہو گی۔
ان کے مطابق، اس کے بعد اگر کوئی توسیع کا معاملہ اٹھتا ہے تو اُس وقت کی حکومت کو اس بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا۔
رانا ثناء اللہ نے وضاحت کی کہ ماضی میں آرمی چیف کی مدت چار سال تھی، جسے 1976 میں کم کر کے تین سال کر دیا گیا تھا، مگر اب پارلیمنٹ نے اسے پانچ سال کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف ہیں، کیونکہ ماضی میں کئی غیر ضروری ایکسٹینشنز دی جاتی رہیں۔ لیکن اگر کبھی یہ روایت پڑ جائے، اور کوئی فیلڈ مارشل بننے کے قابل ہو، تو موجودہ آرمی چیف سے زیادہ موزوں شخصیت اور کون ہو سکتی ہے؟
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر وہ سپوت ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے قوم کو عزت اور سرخروئی کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کی قیادت میں "معرکۂ حق" پر پوری مسلم دنیا خوشی منا رہی ہے، ایسے وقت میں ہمیں چھوٹے معاملات میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ رواں برس پاکستان میں پانی کی سطح غیر معمولی رہی۔ دریائے ستلج اور راوی جیسے دریا جو خشک ہو چکے تھے، وہاں بھی اس بار بڑی مقدار میں پانی آیا ہے۔
حالیہ سیلاب کے دوران حکومتی اداروں نے مؤثر ٹیم ورک کے ذریعے بروقت اقدامات کیے، جس سے جانی نقصان کم سے کم رہا۔ لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اگر حکومت الرٹ نہ ہوتی تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ 9 مئی، 24 اور 26 نومبر کو ملک میں سول نافرمانی کی کوششیں کی گئیں، حتیٰ کہ "معرکۂ حق" پر بھی سازشیں کی گئیں، جن کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی تو یہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسی کسی بھی تحریک یا دھڑے کو، چاہے وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی، پوری قوت سے کچلنا ہو گا۔

اہم پی ٹی آئی رہنما کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان
- 10 گھنٹے قبل

محسن نقوی سے صومالی وزیر داخلہ کی ملاقات، دہشت گردی ،انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 15 گھنٹے قبل

پاک فوج کی برف باری کے دوران کالام، مہمند اور تیراہ میں پھنسے شہریوں اور سیاحوں کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری
- 13 گھنٹے قبل

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد سمیت متعدد اہم بلز منظور،اپوزیشن کا شورشرابہ
- 13 گھنٹے قبل

پاکستان کا شام کی وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کا مطالبہ
- 16 گھنٹے قبل

مراد علی شاہ کاہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اورپلازہ کی تعمیر کا اعلان
- 15 گھنٹے قبل

مری میں برفباری ، اب تک ڈیڑھ فٹ برف ریکارڈ،محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیشگوئی
- 16 گھنٹے قبل

گوگل نےپرسنلائزڈ انٹیلی جنس فیچر کو گوگل سرچ کے آئی موڈ کا حصہ بنا دیا
- 16 گھنٹے قبل

بسنت کو محفوظ بنانے کے لیےپنجاب حکومت کا مانیٹرینگ سمیت ہر لحاظ سے جامع پلان تیار
- 13 گھنٹے قبل

چترال: گھر پر برفانی تودہ گرنے سےایک خاندان کے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
- 13 گھنٹے قبل

تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہورہا ہے، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ
- 10 گھنٹے قبل

متنازعہ ٹویٹ کیس :پولیس نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی گرفتار کر لیا
- 16 گھنٹے قبل







.jpg&w=3840&q=75)