Advertisement

اسرائیلی حملوں میں شدت، غزہ کے محفوظ علاقوں پر بھی بمباری، مزید 41 فلسطینی شہید

غزہ کی وزارت داخلہ نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ رہائشیوں کو گھروں سے جبراً نکالا جا سکے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 6th 2025, 9:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی حملوں میں شدت، غزہ کے محفوظ علاقوں پر بھی بمباری، مزید 41 فلسطینی شہید

6 ستمبر کو اسرائیلی فورسز نے غزہ میں حملوں میں مزید شدت لاتے ہوئے مبینہ طور پر محفوظ قرار دیے گئے علاقوں، خیمہ بستیوں اور امداد کے متلاشی افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 41 فلسطینی شہید ہو گئے۔

قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں کئی رہائشی عمارتوں پر بمباری کی، جہاں درجنوں بے گھر فلسطینی خاندان مقیم تھے۔ یہ حملے قابض افواج کی جانب سے غزہ سٹی کے شہریوں کو انخلا کی دھمکیوں کے بعد کیے گئے۔ غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق، زیتون محلے میں مرتجہ خاندان کے گھر پر فضائی حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد تاحال ملبے تلے دبے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق، شہداء میں سے 25 افراد غزہ سٹی میں اور 6 امداد لینے والے تھے۔

ادھر خان یونس کے المواسی علاقے میں، جہاں اسرائیل نے نام نہاد "انسانی ہمدردی کا زون" قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، ایک خیمہ بستی پر بمباری میں مزید 2 افراد شہید ہو گئے۔ یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب اسرائیلی افواج نے فلسطینی شہریوں کو غزہ کے شمالی علاقوں سے یہاں منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔

غزہ کی وزارت داخلہ نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ رہائشیوں کو گھروں سے جبراً نکالا جا سکے۔ وزارت نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کے "محفوظ علاقوں" کے دعوؤں پر ہرگز اعتماد نہ کریں کیونکہ ماضی میں بھی ان علاقوں کو متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک کم از کم 64,368 فلسطینی شہید اور 162,367 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ بنیادی ڈھانچے، اسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور چرچ سمیت بیشتر شہری عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

Advertisement
Advertisement