Advertisement
پاکستان

لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ کو توہینِ عدالت کیس میں 15 ستمبر کو طلب کر لیا

پٹیشن میں کہا گیا کہ "نہ تو مدعا علیہ نے درخواست گزار کو سنا اور نہ ہی کوئی جواب دیا۔ اب کئی ماہ گزر چکے ہیں، اور درخواست گزار قانونی انصاف کے لیے دربدر ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 10th 2025, 4:49 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ کو توہینِ عدالت کیس میں 15 ستمبر کو طلب کر لیا

لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کو توہینِ عدالت کے کیس میں 15 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالتی حکم کے باوجود ان کی درخواست پر کارروائی نہیں کی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے نیب کو سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار اور سابق صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت کے مبینہ غیرقانونی اثاثوں کی تحقیقات کے لیے خط لکھا، جس پر عدالت نے 6 مئی کو نیب کو ایک ماہ میں درخواست نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم نہ تو نیب نے درخواست پر کوئی فیصلہ دیا اور نہ ہی جواب داخل کرایا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پچھلی سماعت پر نیب کی جانب سے کون پیش ہوا تھا؟ جس پر سرکاری وکیل نے اعتراف کیا کہ کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

16 جون کو دائر کی گئی پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ نیب نے دسمبر 2024 میں دائر شکایت پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔ عدالت کے 6 مئی کے حکم کے مطابق، چیئرمین نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایک ماہ میں شکایت پر فیصلہ کریں اور اس کی اطلاع عدالت کے جوڈیشل رجسٹرار کو دیں۔

اس پر عدالت نے چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل سنگین معاملہ ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ "نہ تو مدعا علیہ نے درخواست گزار کو سنا اور نہ ہی کوئی جواب دیا۔ اب کئی ماہ گزر چکے ہیں، اور درخواست گزار قانونی انصاف کے لیے دربدر ہے۔"

درخواست گزار نے عدالت سے آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت چیئرمین نیب کے خلاف فرد جرم عائد کرنے اور توہینِ عدالت کے تحت کارروائی کی استدعا کی ہے۔

Advertisement
Advertisement