شہباز شریف نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کیا


وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کا تاریخی دورہ مکمل کر کے لندن روانہ ہوگئے، وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کر کے ریاض سے لندن روانہ ہوگئے، ریاض کے نائب گورنر عزت مآب محمد بن عبد الرحمن بن عبد العزیز نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کو الوداع کیا۔
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض پہنچنے پر شاندار استقبال پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
Deeply touched by the heart warming welcome, accorded to me by my dear brother HRH Prince Mohammed bin Salman, Crown Prince and Prime Minister of Saudi Arabia, on my official visit to Riyadh.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 18, 2025
From the unprecedented escort provided to my aircraft by the Royal Saudi airforce jets… pic.twitter.com/RZvkOSQbF1
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ دل سے متاثر ہیں اور یہ استقبال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ محبت اور باہمی احترام کا مظہر ہے، ان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے نہایت خوشگوار اور مفید گفتگو ہوئی جس میں علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شا اللہ!۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ولی عہد و وزیر اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا تھا، سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچنے پر سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے وزیراعظم کا شاندار استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم کو 21 توپوں کی سلامی اور سعودی عرب کی افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔
بعدازاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین "سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے" (SMDA) معاہدے پر دستخط کئے۔
یہ معاہدہ جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کیلئے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے،ابھی تک حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے،جے ڈی وینس
- 4 گھنٹے قبل

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
- ایک دن قبل

مذاکرات کے دور میں مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا،باقر قالیباف
- 2 گھنٹے قبل

جنگ بندی کے بعد ایران میں تباہ شدہ توانائی تنصیبات کی بحالی کاعمل شروع
- 37 منٹ قبل

ہر نسل کے دلوں پر راج کرنے والی معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے انتقال کر گئیں
- 4 گھنٹے قبل

بات چیت میں متعدد نکات پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے،ہم نےسفارتکاری کا راستہ بند نہیں،ایران
- 4 گھنٹے قبل

"خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے" کہنے والی آشا بھوسلے دنیا سے رخصت ہو گئیں، بھارتی موسیقی کا سنہری باب بند
- 3 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد واپس امریکا روانہ
- 4 گھنٹے قبل

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھیں گے،اسحاق ڈار
- 4 گھنٹے قبل

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- ایک دن قبل
1 ارب ڈالر اور ’خوبصورت ترین دلہن‘ دیں نہیں تو سفارتخانہ بند کر دوگا،یوگنڈین فوجی سربراہ
- 14 منٹ قبل

ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئےسیکیورٹی اینڈکنٹرول نظام کے تحت ٹول دینا ہوگا، ایران
- 32 منٹ قبل











