Advertisement
پاکستان

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

 یہ درخواستیں 25 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ مقدمے کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ کرے گا

GNN Web Desk
شائع شدہ ایک سال قبل پر ستمبر 18 2025، 6:49 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

 

اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا یافتہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

 یہ درخواستیں 25 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ مقدمے کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ کرے گا۔

قبل ازیں، 11 ستمبر کو عدالت نے ان درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کی ہدایت جاری کی تھی۔

یاد رہے کہ ان درخواستوں پر آخری سماعت 26 جون کو ہوئی تھی، جبکہ 17 جنوری 2025 کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان کو 14 سال قید اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے اس کے ساتھ عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں بالترتیب 6 ماہ اور 3 ماہ مزید قید کاٹنا ہوگی۔

کیس کا پس منظر:

190 ملین پاؤنڈز (القادر ٹرسٹ کیس) میں الزام ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی جانب سے پاکستان کو منتقل کی گئی 50 ارب روپے کی رقم کو قانونی تحفظ دینے کے بدلے بحریہ ٹاؤن سے قیمتی اراضی اور مالی فوائد حاصل کیے۔

یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ غیر قانونی حصول سے متعلق ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات کو مخفی رکھتے ہوئے کابینہ کو گمراہ کیا گیا، اور NCA کی وصول کردہ رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے بحریہ ٹاؤن کے واجبات میں ایڈجسٹ کر دیا گیا۔

Advertisement
Advertisement