پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے


پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے۔ یہ مذاکرات 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت ہونے والی قرض کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے اہم ہیں۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اور تکنیکی مذاکرات
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اس بار اسلام آباد کے بجائے کراچی پہنچا ہے، جہاں اسٹیٹ بینک میں 2 ہفتے تک پاکستان کی معیشت کا جائزہ لیا جائے گا۔ آئی ایم ایف ٹیم پاکستان کی معاشی صورتحال، حالیہ سیلاب کے اثرات، اور بجٹ اہداف کی تکمیل کا جائزہ لے گی۔ یہ تمام عوامل اگلی قرض قسط کے اجرا کے لیے اہم ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقاتیں
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ، کرسٹالینا جارجیوا، سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو سراہا اور ملک کے مالیاتی وعدوں کی تکمیل پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے آئی ایم ایف پروگرام کے وعدے بتدریج پورے کر رہا ہے اور اس بات کی درخواست کی کہ آئی ایم ایف حالیہ سیلابی نقصانات کو آئندہ جائزے میں مدنظر رکھے۔
7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج
25 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی تھی۔ اس پیکج کے تحت آئی ایم ایف نے پاکستان کو کئی مالی معاونت فراہم کی، جس میں 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA)، 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF)، اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) شامل ہیں۔
قرض کی قسطیں
اس قرض پیکج کے تحت آئی ایم ایف نے پاکستان کو مختلف اقساط میں قرض فراہم کیا۔ 27 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف سے قرض کی پہلی قسط کی مد میں پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر موصول ہوئے تھے، اور پھر 14 مئی 2025 کو قرض کی مزید ایک قسط کے طور پر ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر منتقل ہوئے تھے۔
لداخ اور سیلاب کے اثرات
پاکستان کو سیلاب کی صورت میں شدید قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو نہ صرف ملک کی معیشت پر بلکہ بجٹ اہداف پر بھی منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے جائزے میں ان نقصانات کو شامل کرنا اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن پر مزید تفصیل سے نظر ڈالی جائے گی۔
مستقبل کی اقتصادی حکمت عملی
آئی ایم ایف کی ٹیم اس جائزے کے دوران پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں اور مالیاتی حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لے گی، جس کے تحت پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مستقبل کی شراکت داری اور مالی معاونت کے بارے میں بھی بات چیت کی جائے گی۔

دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے،اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رہے گی،ایرانی جنرل
- 12 گھنٹے قبل

سونے کی بڑھتی قیمتوں کو ریورس گئیر لگ گیا، فی تولہ ہزاروں روپے سستا
- 14 گھنٹے قبل

ایران جنگ:وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے،علاقائی وعالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 10 گھنٹے قبل

فورسز کی افغان طالبان کے خالف کارروائیاں جاری،قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
- 14 گھنٹے قبل

دوسرا سیمی فائنل: سنجوسمسن کی جارحانہ بلے بازی،بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا بڑا ہدف
- 10 گھنٹے قبل

بیتھل کی اسنچری رائیگاں، انگلینڈ کو سننسی خیز مقابلے کے بعد7 رنز سے شکست، بھارت میں فائنل میں پہنچ گیا
- 6 گھنٹے قبل

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں، وزیراعظم
- 9 گھنٹے قبل
پنجاب میں جعلی ادویات کی فروخت، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات سے متعلق الرٹ جاری کردیا
- 14 گھنٹے قبل

عباس عراقچی کا ترک وزیر خارجہ سے رابط،ایران کی ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید
- 14 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی کوکو علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری
- 14 گھنٹے قبل

وزیر اعلی سہیل آفریدی کی ایرانی قونصل خانہ آمد، سپریم لیڈر کے انتقال پر اظہار تعزیت
- 9 گھنٹے قبل
.webp&w=3840&q=75)
اے آئی کی گورننس ،اخلاقی استعمال اور عوامی شعبے کی رہنمائی کیلئے پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے ،شزا فاطمہ
- 9 گھنٹے قبل











.jpg&w=3840&q=75)



