Advertisement
پاکستان

پاکستان کا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز، 16 پناہ گزین کیمپ بند کرنے کا فیصلہ

پناہ گزینوں نے بھی واپسی کے عمل میں ٹرانسپورٹ اور کرایوں میں اضافے کی شکایات کی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر 3 لاکھ روپے کا کرایہ اب 6 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 27th 2025, 9:24 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان کا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز، 16 پناہ گزین کیمپ بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں قائم 16 افغان پناہ گزین کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزارت ریاست و سرحدی امور (سیفران) کے نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ کیمپ ہری پور، چترال، اپر دیر، چاغی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، کوئٹہ اور میانوالی میں واقع ہیں۔

کیمپوں کے خاتمے کے بعد متعلقہ جگہیں صوبائی حکومتوں اور ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کر دی جائیں گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یکم ستمبر 2025 سے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ افغان باشندے، جن کے کارڈز 30 جون کو ختم ہو چکے ہیں، اب پاکستان میں غیر قانونی تصور ہوں گے۔ دوسری جانب یو این ایچ سی آر نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ واپسی کا عمل رضا کارانہ، محفوظ اور باوقار ہونا چاہیے۔

پناہ گزینوں نے بھی واپسی کے عمل میں ٹرانسپورٹ اور کرایوں میں اضافے کی شکایات کی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر 3 لاکھ روپے کا کرایہ اب 6 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔

اگرچہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت افغان مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیجے گی، لیکن کیمپوں کی بندش نے ہزاروں پناہ گزینوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت بھی پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد خیبرپختونخوا میں مقیم ہے۔

Advertisement
Advertisement