اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مقام بحال کرنا ہماری ترجیح ہے۔ دفاعی اعتبار سے ہم نے دنیا کو اپنی صلاحیت دکھا دی ہے


نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے پر کسی بھی ملک نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، بلکہ دیگر کئی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کرنے کے خواہاں ہیں۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ معاہدہ یک دم نہیں ہوا بلکہ اس پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے سنجیدہ مشاورت اور تیاری جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اس پر کسی کو تحفظات نہیں ہونے چاہئیں۔
اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مقام بحال کرنا ہماری ترجیح ہے۔ دفاعی اعتبار سے ہم نے دنیا کو اپنی صلاحیت دکھا دی ہے، اب ہماری کوشش ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر بھی مستحکم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کے اصول پر تعلقات رکھنے چاہئیں، چاہے وہ چھوٹے ملک ہوں یا بڑے، سب کی عزت یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
چند روز قبل، وزیر خارجہ نے لندن ہی میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں، اور حالیہ معاہدہ کئی ماہ کی سنجیدہ بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔
قبل ازیں، وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے اس دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔
یاد رہے کہ 18 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ" پر دستخط کیے گئے تھے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت، اگر کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کی جاتی ہے تو اسے دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
معاہدہ دونوں ممالک کے دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ
- 17 گھنٹے قبل

افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق پوری شدت سے جاری،مزید 67 خارجی جہنم واصل
- 17 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع
- 14 گھنٹے قبل

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار
- 17 گھنٹے قبل

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
- 16 گھنٹے قبل

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام
- 14 گھنٹے قبل

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی
- 17 گھنٹے قبل

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
- 16 گھنٹے قبل

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں
- 13 گھنٹے قبل

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق
- 17 گھنٹے قبل

امریکی میرینز نے کراچی میں قونصل خانے پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی ،رائٹرز
- 17 گھنٹے قبل

ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی
- 13 گھنٹے قبل













