Advertisement

ایکواڈور کے صدر ڈینئل نوبوا پر مبینہ قاتلانہ حملہ، بال بال بچے

حملے میں ملوث پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Oct 8th 2025, 10:16 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایکواڈور کے صدر ڈینئل نوبوا  پر مبینہ قاتلانہ حملہ، بال بال بچے

جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور کے صدر ڈینئل نوبوا مبینہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں، جبکہ حملے میں ملوث پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صدر نوبوا کی گاڑی کو پانچ سو سے زائد مظاہرین نے گھیر کر پتھراؤ کیا، مبینہ طور پر گولیاں بھی چلائی گئیں تاہم وہ محفوظ رہے۔ گاڑی پر گولیاں لگنے کے واضح نشانات ہیں۔

صدارتی آفس کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور قاتلانہ حملے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

وزیر دفاع گیان کارلو لوفرڈو نے صدر نوبوا کی تصویر جاری کی جس میں وہ اپنی گولیوں سے متاثرہ گاڑی کے قریب کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی کہا کہ ’یہ صدر کسی چیز سے نہیں رکتا، اور یہی اس بات کی علامت ہے کہ ملک بھی نہیں رکے گا۔‘

وزیر ماحولیات و توانائی اینس مانزانو نے تصدیق کی کہ یہ صدر پر قاتلانہ حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جنہوں نے صدر کے قافلے کو گھیر کر پتھراؤ کیا اور گولیاں چلائیں۔ صدر کی گاڑی پر فائرنگ، پتھراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا مجرمانہ فعل ہے، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

صدارتی دفتر نے کہا کہ گرفتار ملزمان پر دہشت گردی اور قاتلانہ حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔ تاہم خبر رساں ادارے ”رائٹرز“ کے مطابق ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ صدر کی گاڑی پر واقعی گولی چلائی گئی یا نہیں۔

صدر نوبوا نے بعد ازاں طلبہ سے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت ایسے حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

ادھر ملک کی بڑی مقامی تنظیم ”کونائی“ نے الزام لگایا ہے کہ صدر کے دورے کے موقع پر مظاہرین کے خلاف پولیس اور فوج نے طاقت کا استعمال کیا، جس میں بوڑھی خواتین بھی زخمی ہوئیں۔ ان کے مطابق کم از کم پانچ افراد کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔

یہ مظاہرے حکومت کی جانب سے ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ صدر نوبوا نے پندرہ ستمبر کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے یہ سبسڈی ختم کر دی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں ہڑتالیں، مارچ اور سڑکوں کی ناکہ بندی شروع ہوگئی۔

حکومت کا موقف ہے کہ سبسڈی ختم کرنے سے سالانہ 1.1 بلین ڈالر کی بچت ہوگی، جو چھوٹے کسانوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کو امدادی طور پر دی جائے گی۔

اپریل میں دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نوبوا نے ملک میں سکورٹی سخت کرنے کے لیے کئی صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔

Advertisement