Advertisement
پاکستان

اسلام آبادخود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو گئی، درجنوں زیرِ علاج

دھماکے کے بعد پمز میں مجموعی طور پر 149 زخمیوں کو لایا گیا، جبکہ 28 افراد کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کی گئیں،ترجمان

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Feb 8th 2026, 2:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسلام آبادخود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو گئی، درجنوں زیرِ علاج

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کالاں کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران  ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو گئی جبکہ 48 کے قریب افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اس حوالے سےترجمان پمز اسپتال کا کہنا ہےکہ دھماکے کے بعد پمز میں مجموعی طور پر 149 زخمیوں کو لایا گیا، جبکہ 28 افراد کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کی گئیں۔

ترجمان نےمزید بتایاکہ زخمیوں میں سے پانچ افراد کو ابتدائی طبی معائنہ اور ضروری علاج کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج تاحال جاری ہے۔

دوسری جانب پولی کلینک اسپتال میں بھی دھماکے کے متاثرین کو لایا گیا،ترجمان پولی کلینک کے مطابق ترلائی دھماکے کے بعد 19 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے نو زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

اس حوالے سےاسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 14 زخمی پولی کلینک میں زیر علاج ہیں اور صرف ایک مریض کو صحت بہتر ہونے پر ڈسچارج کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی ادارے حملے میں ملوث نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ 

بعدا زاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے چار سہولت کاروں کو پشاور اور نوشہرہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جو کہ افغان شہری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی داعش نے افغانستان میں کی تھی اور اس وقت کم از کم 21 دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران ایک پولیس افسر اے ایس آئی نے جامِ شہادت نوش کیا، جس پر انہوں نے شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

 

Advertisement
Advertisement