Advertisement

یوم آزادی صحافت: سچ اب جعلی کیوں لگنے لگا ہے؟

اگر  اس تیز رفتار انفارمیشن کے دور میں اگر میڈیا اور صحافی صرف یہی بنیادی کام سنبھال لیں کہ سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کیسے کرنا ہے تو  دونوں ہی بچ جائیں گے،اشفاق ریاض

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر May 3rd 2026, 3:16 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
یوم آزادی صحافت: سچ اب جعلی کیوں لگنے لگا ہے؟

تحریر: اشفاق ریاض

آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب  انسان   اپنے موبائل کی اسکرین پر انگلی پھیر رہا ہوتا ہے یعنی سکرول کررہا ہوتا ہے تو خبریں اس کے سامنے بہہ رہی ہوتی ہیں،کہیں جنگ، کہیں سیاست تو کہیں کسی اداکار کی شادی آپ کے سامنے چل رہی ہوتی ہے، آپ کو بھی شاید یہی لگتا  ہو گا کہ  آپ خود فیصلہ کر رہے ہیں کہ کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس انتخاب پر100فیصد کنٹرول آپ   کا نہیں ہوتا بلکہ  یہ  پہلے ہی طے کیا جا چکا ہوتا ہے کہ سکرول کرنے والے کو کیا دکھانا ہےاور کیا نہیں۔

ہر سال3 مئی کو  دنیا بھر کی طرح ہم پاکستان میں۔۔یوم آزادی صحافت۔۔مناتے ہیں۔ہر طرف سے بیانات جاری ہوتے ہیں،لمبی لمبی تقاریر کی جاتی ہیں اور وہی مانوس جملے دہرائے جاتے ہیں  جو ہم برسوں  سے سنتےآرہے ہیں کہ صحافت آزاد ہونی چاہیے، خبر دینا جرم نہیں ہے۔میری بحث کا موضوع  آج یہ نہیں ہے کہ  ہم واقعی آزاد صحافت کے دور میں جی رہے ہیں یا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جہاں آزادی صحافت کا مطلب ہی خاموشی  اور بغیر کسی اعلان کےبدل دیا  گیا ہے۔

ماضی گواہ ہے کہ  اگر کسی  خبر پر پابندی لگتی تھی تو وہ نظر آتی تھی،ایڈیٹر پر دباؤ آتا تھا تو صبح اخبار کی سرخی غائب ہو جاتی تھی، سنسرشپ کے نام  پر کوئی چینل بند ہوتا تھا یا کسی  صحافی کو دبایا جاتا تھا تو پتہ چلتا تھا مگر آج کے ڈیجٹل دور کاخطرہ  پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، اب سنسر شپ نظر نہیں آتی، اکثرمحسوس بھی نہیں ہوتی مگر اسکا اثر ہمارے ذہنوں پر پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے ۔

اب اگر یہ کہا  جائے کہ آج  کے دورکا سب سے طاقتور سنسر کوئی حکومت نہیں بلکہ ۔۔الگورتھم۔۔ہے تو شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا، جی ہاں،  وہی الگورتھم جو آپ کے سوشل میڈیا یعنی فیس بک، یوٹیوب یا انسٹاگرام کی فیڈ کو ترتیب دیتا ہے، وہی طے کرتا ہے کہ آپ آج  کس دنیا میں رہیں گے۔ آپ کو وہی خبریں  اور چیزیں زیادہ نظر آتی ہیں جو آپ کو مصروف رکھیں جو آپ کے جذبات کو ابھارتی ہیں اور  آپ  گھنٹوں اسکرین سے جڑے رہتے ہیں۔

اس نئی قسم کی سنسر شپ  کا سب سے بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ  یہاں  سچ کو چھپایا نہیں جاتا بلکہ رنگ رنگ کے سچ دکھائے جاتے ہیں ،آپ کو اتنی زیادہ معلومات دی جاتی ہیں کہ اصل معلومات کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہیں یعنی یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب ہےاور یہ انتخاب100فیصد ہم نہیں کر رہے۔

اب اس کہانی میں مصنوعی ذہانت  اور ڈیپ فیک کو بھی  شامل کر لیں تو مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔آج عالم یہ ہوگیا ہے کہ  آپ ایک خبر سنتے یا پڑھتے ہیں یا پھر کوئی  ویڈیو دیکھتے ہیں تو آپ کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ حقیقی ہے یا جعلی، ایک آڈیو سن کر آپ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ  یہ آڈیو جس شخص سے منسوب کی گئی ہے کیا اسی   انسان کی آواز ہے یا  پھریہ  ایک مشینی آواز ہے یعنی جدید اے آئی اور ڈیپ فیکس نے سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کو اس قدر دھندلا کر دیا ہے کہ  اب آنکھوں دیکھا حقیقت لگتا ہے اور نہ ہی کانوں سنا سچ لگتا ہے۔جہاں  آرٹیفشل انٹیلی جنس کے بہت فائدے ہیں وہیں  سب سے بڑا دھچکا یہ ہے کہ اب آنکھ اور  کان دونوں ناقابلِ اعتبار سے لگنے لگے ہیں۔

حالیہ عرصے میں کئی بار ایسے ہو چکا ہے کہ کئی ملکوں میں ایک فیک نیوز یاجعلی ویڈیو نے ہلچل مچا دی،پھر وضاحتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے مگر تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہےکیونکہ یہ دور ایسا ہے کہ جھوٹ تیزی سے سفر کرتا ہے اور سچ اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں صحافت کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہےاور سب سے مشکل بھی،یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں اب انداز صحافت  کیساتھ کیساتھ صحافی کا کردار بھی بدل رہا ہے کیونکہ صحافت نام ہی ذمہ داری ہے۔ 

اب صحافی کا کام صرف خبر دینا نہیں رہا بلکہ اسے  پرکھنا بھی ہے، اس کی تہہ تک جانا  بھی ہےاور کام میں اس شور میں سچ کی آواز کو الگ کرنا  بھی شامل ہے۔

اس یوم آزادی صحافت پر میرا مدعہ بس اتنا ہے کہ اگر  اس تیز رفتار انفارمیشن کے دور میں اگر میڈیا اور صحافی صرف یہی بنیادی کام سنبھال لیں کہ سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کیسے کرنا ہے تو  دونوں ہی بچ جائیں گے۔

دوسرا مدعہ یہ ہے کہ آج ہر شہری کو تھوڑا سا صحافی بننے کی ضرورت ہے ورنہ  آپ انفارمیشن کے اس وار فیئر میں مات کھا سکتے ہیں ،نئے دور کا تقاضہ یہ ہے کہ  ہر خبر کو سوال کی نظر  دیکھنا ہوگا اورہر ویڈیو کو شک کی نگاہ سے پرکھنا ہوگا۔

کیونکہ اب سب سے بڑی مہارت یہ نہیں کہ آپ کتنی  زیادہ معلومات رکھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ سچ کو جھوٹ سے کیسے الگ کرتے ہیں۔مہارت یہ بھی نہیں کہ آپ ایک دن  میں سوشل میڈیا پر کتنا کچھ دیکھتے ہیں بلکہ اصل مہارت یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ آپ جو دیکھ رہے ہیں کیا واقعی   وہی دیکھنا چاہتے ہیں؟

یومِ آزادی صحافت ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ صحافی کو بولنے کا حق ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سچ تک رسائی ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق صرف تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب ہم سب اس کی حفاظت کریں۔

 تحریر اشفاق ریاض

نوٹ:کالم نگار عرصہ دراز سے شعبہ صحافت سے منسلک ہے یہ تحریر ان کی ذاتی رائے اور مشاہدات پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Advertisement
پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم

  • 3 days ago
ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور

  • 12 hours ago
آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

  • 3 days ago
گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی

  • 11 hours ago
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ

  • 17 hours ago
لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک

  • 2 days ago
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئے

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئے

  • 17 hours ago
شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا

  • 11 hours ago
بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا

  • 14 hours ago
نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی

  • 3 days ago
پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا

  • 3 days ago
پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل

  • 2 days ago
Advertisement