Advertisement
پاکستان

پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ کو بچھڑے 4 برس بیت گئے

پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آج چوتھی برسی منائی جارہی ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Aug 11th 2021, 4:05 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ کو بچھڑے 4 برس بیت گئے

 جرمنی میں پیدا ہونے والی یہ عظیم خاتون 57 سال پاکستان میں مقیم رہیں اورجذام کا مرض مملکت خداد سے ختم کرنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ 9ستمبر1929 کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہوئی تھیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ1960 میں پاکستان آئیں اور پھر جذام کے مریضوں کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی، وہ جذام کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کرتی تھیں۔ جرمنی کی سماجی تنظیم ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘ کی جانب سے جب انہوں نے پہلی مرتبہ کراچی کا دورہ کیا تو جذام کے مریضوں کو دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں رہ کراس مرض کے خاتمے کے لیے کوشش کریں گی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1963 میں آئی آئی چندریگر روڈ (پرانا میکلوروڈ) سے ملحقہ جذام کے مریضوں کی بستی میں مفت کلینک کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان میں ہزاروں مریض تھے۔ اس زمانے میں لوگوں کا عمومی رویہ تھا کہ ایسے مریضوں سے میل جول سے اجتناب برتتے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سنہ1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا اور پاکستان کو یہ اعزاز دلانے میں ڈاکٹررتھ فاؤ نے سب سے اہم کردار اداکیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ جذام کے مریضوں کی مسیحائی کرنے کے لیے سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور شمال میں دور دراز علاقوں میں بھی گئیں اورایسے مریضوں جذام کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کی مسیحائی کے لیے انہوں نے کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی  چھوٹے کلینک قائم کیے اور یہ نیٹ ورک بڑھتے بڑھتے 157 لیپرسی سینٹرز تک پہنچ گیا۔

ان گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازت سے نوازا گیا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی۔لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔

Advertisement
پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت

پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت

  • 2 days ago
کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا

  • 10 hours ago
مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان

  • 6 hours ago
اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل

  • 6 hours ago
ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی

ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی

  • 2 days ago
فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد

فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد

  • 6 hours ago
خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی

خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی

  • 10 hours ago
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

  • 2 days ago
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی

لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی

  • a day ago
’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد،  عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت

’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت

  • 8 hours ago
امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان

امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان

  • 2 days ago
پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار

پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار

  • 2 days ago
Advertisement