کابل: افغانستان کے صوبے وادی پنجشیر میں طالبان اور قومی مزاحمتی فرنٹ افغانستان (این ایف آر اے) کے درمیان باضابطہ طور پر لڑائی کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں جب کہ اسی دوران فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔


برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مخالفین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے جب کہ این ایف آر اے کے ترجمان نے بھی طالبان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وادی پنجشیر میں باقاعدہ لڑائی کا آغازعین اس وقت ہوا ہے کہ جب طالبان کی جانب سے کل حکومت سازی کرنے کا باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے۔
گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ طالبان اور وادی پنجشیر کے مزاحمتی گروپ کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز بھی لڑائی کی اطلاعات ملی تھیں اور فریقین نے مختلف دعوے کیے تھے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مقامی مسلح گروپ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہم نے ان کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے جنگجو پنجشیر میں داخل ہوگئے ہیں اور انہوں نے بعض علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق این ایف آر اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے پاس پنجشیر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ضلع شتل میں طالبان کی جانب سے کیا جانے والا حملہ پسپا کردیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مخالفین نے صوبہ پروان کے قصبے جبل سراج سے شتل میں داخل ہونے کی متعدد کوششیں کی ہیں لیکن ہر مرتبہ اسے ناکامی ہوئی ہے۔
طالبان مذاکراتی وفد کے رکن امیرخان متقی نے گزشتہ روز ایک آڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پنجشیرکا معاملہ حل کرنے کیلئے مذاکرات کیے گئے لیکن مذاکرات میں تاحال پیشرفت نہیں ہوسکی کیونکہ مزاحمتی محاذ کے افراد لڑنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ روز بھی قومی مزاحمتی فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپوں میں کم از کم 30 طالبان جنگجو مارے گئے اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔ سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود شاہ وادی پنجشیر میں مزاحتمی تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔ احمد مسعود نے گزشتہ دنوں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں باقاعدہ مضمون لکھ کر امریکہ سے طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے اسلحہ و بارود کی مدد مانگی تھی۔
انہوں نے ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کو اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ہتھیار ڈالنا ان کی لغت میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے بجائے مرنا پسند کریں گے۔ افغان صوبہ پنجشیر تاحال ناقابل تسخیر ہے اورطالبان اب تک وہاں داخل نہیں ہوسکے ہیں۔ وادی پنجشیر اس سے قبل پروان صوبے کا حصہ تھا جسے 2004 میں الگ صوبے کا درجہ دیا گیا تھا۔
پنجشیر صوبے کا دارالحکومت بازارک ہے، یہ سابق جہادی کمانڈر اور سابق وزیر دفاع احمد شاہ مسعود کا آبائی شہربھی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات
- 12 گھنٹے قبل

خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے
- 12 گھنٹے قبل

صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد
- 16 گھنٹے قبل

پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے
- 16 گھنٹے قبل

ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ
- 15 گھنٹے قبل

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
- ایک دن قبل

مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف
- 15 گھنٹے قبل

منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی
- 9 گھنٹے قبل

10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی
- ایک دن قبل

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
- 16 گھنٹے قبل

آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ
- 11 گھنٹے قبل

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی
- 9 گھنٹے قبل











