ترجمان ایف بی آر اسد طاہر کا کہنا ہے کہ جو لوگ اضافی آمدن کماتے ہیں اور پروفیشنلز ہیں ان کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا ہے،کسی بھی عام پاکستانی پر ٹیکس نہیں لگایا گیا۔


ترجمان ایف بی آر اسد طاہر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کی معیشت کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد محصولات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے، محصولات کی کم وصولی کی وجہ سے اخراجات پورے کرنے کیلئے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، پاکستان کا ٹیکس بلحاظ جی ڈی پی 10.5 فیصد ہے جو کہ اس خطے میں افغانستان کے بعد سب سے کم ہے، نیپال میں ٹیکس بلحاظ جی ڈی پی 19 فیصد اور افریقہ میں 16 فیصد سے زائد ہے۔
اسد طاہر نے کہا کہ معیشت کو رسمی دستاویزی معیشت بنانا ہے، کاروباری لوگ اپنا کاروبار وسیع کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دینے کیلئے تیار نہیں ہیں، اب تک 7 لاکھ 52 ہزار 174 افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ اضافی آمدن کماتے ہیں اور پروفیشنلز ہیں ان کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا ہے، کسی بھی عام پاکستانی پر ٹیکس نہیں لگایا گیا، عام صارف کی جیب سے میگا اسٹور پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کٹتاہے وہ ایف بی آر کو نہیں ملتا، پی او ایس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا بلکہ ایک خودکار نظام ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- a day ago

پاکستان اوریورپی یونین کا دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
- 2 days ago

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- a day ago

سہ ملکی سیریز: سری لنکا نے انگلینڈ کوتاریخی شکست دے دی
- 2 days ago

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- a day ago

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- 2 hours ago

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- 15 hours ago

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- 23 minutes ago

پاکستان میں مہنگائی: آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک نے بھی مہنگائی بڑھنے سے خبردار کردیا
- 2 days ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- a day ago

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- a day ago

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- 36 minutes ago






