Advertisement
پاکستان

اسمبلیوں کا گھیراؤ کرنا پڑا تو کریں گے: ایم کیو ایم

کراچی: ایم کیو ایم راہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام بحال کرنے کے لیےہم احتجاج کو بڑھائیں گے، اگر اسمبلیوں کا گھیراو کرنا پڑا تو کریں گے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Dec 6th 2021, 12:55 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسمبلیوں کا گھیراؤ کرنا پڑا تو کریں گے: ایم کیو ایم

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے کراچی میں واقع مسلم لیگ ہاوس کارساز کا دورہ کیا، جہاں دونوں جماعتوں کی جانب سے کراچی کے حقوق کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوم رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ وفاق میں اپوزیشن سے کسی بل پر مشاورت نہیں کی جاتی، صوبے میں پیپلزپارٹی اس کے برعکس کرتی ہے،کسی سے مشاورت نہیں کی اور جعلی اور کھوٹی اکثریت سے بل پاس کرادیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مئیر کے پاس جو بچے کچے سروسز ٹیکس، تعلیمی اداروں یا اسپتال کے اختیارات تھے، وہ بھی چھین لیے، اب کے ایم سی نام کا کے ایم سی رہ گیا ہے، یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ مشرف دور کا بلدیاتی نظام بحال کررہے ہیں، ہم احتجاج کررہے ہیں، ہم اس احتجاج کو بڑھائیں گے، اگر اسمبلیوں کا گھیراو کرنا پڑا تو کریں گے۔

ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کو چاہیے وہ آئیں بائیں شائیں نہ کریں، یہ باتیں پرانی ہوگئیں، مرتضی وہاب کو چاہیے کہ کے ایم سی کو اختیارات واپس دلوائیں، وہ جہاں بیٹھے ہیں ان کے پاس طاقت ہے، مراد علی شاہ کے خاص ہیں وہ یہ ڈرامے نہ کریں، اس شہر کے لیے کچھ کریں۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ فنڈز کی تقسیم این ایف سی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن نیت صاف ہونی چاہیے، ن لیگ کے دور حکومت میں فیڈرل ٹیکس ریونیو ڈبل ہوا تو صوبے کو زیادہ پیسہ ملا، اندرون سندھ میں پیسہ کہاں لگ رہا ہے؟ اگر کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو کہیں تو پیسہ لگے۔

ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا وفاق اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے، وفاق میں یہ فیڈریشن کی بات کرتے ہیں صوبے میں یہ حقوق سلب کرتے ہیں۔

 

Advertisement