Advertisement
علاقائی

سانحہ مری: افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے ،تحقیقات میں انکشاف 

راولپنڈی : رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسران نے صورتحا ل کو سنجیدہ لیا نہ کسی پلان پر عمل کیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jan 20th 2022, 1:31 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
سانحہ مری: افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے ،تحقیقات میں انکشاف 

تفصیلات کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقات رپورٹ کے مطابق  تمام متعلقہ محکمو ں کی غفلت ثابت ہوئی ہے، تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  افسران صورتحال کو سمجھ ہی نہیں سکے ،  افسران نے صورتحا ل کو سنجیدہ لیا نہ کسی پلان پر عمل کیا، کئی افسران نے واٹس ایپ میسج بھی تاخیر سے دیکھے۔

رپورٹ میں  کمشنر،ڈی سی ،اے سی سب کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  سی پی او،  سی ٹی او بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ، محکمہ جنگلات، ریسکیو1122 کا مقامی آفس بھی ڈلیور نہ کرسکا ، ہائی وے محکمہ بھی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا اور واٹس ایپ پر تمام مینجمنٹ کی جاتی رہی۔

قبل ازیں سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کردی۔جس کے بعد وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر 15 افسران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے،  متعلقہ حکام اپنے فرائض کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔

وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ  ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹاکر انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی۔جبکہ  سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور  اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹاکرانضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

عثمان بزدار نے مزید کہا کہ کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹاکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ، اسسٹنٹ کمشنر مری کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیا جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کردیا گیا ہے۔

Advertisement