Advertisement

امریکا اپنی فوج یوکرین نہیں بھیجے گا : صدر بائیڈن

واشنگٹن :  روس کے یوکرین پر حملے کے حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اپنی فوج یوکرین نہیں بھیجے گا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Mar 12th 2022, 4:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکا اپنی فوج یوکرین نہیں بھیجے گا : صدر بائیڈن

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے صدر جو بائیڈن نے جاری کیے گئے ایک بیان میں  کہا کہ  یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم نیٹو کے ایک ایک انچ کا مکمل طاقت سےدفاع کریں گے۔

امریکی صدر نے  کہا کہ ہم یوکرین میں روس سے جنگ نہیں کریں گے ۔

بائیڈن نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ ہو گی۔

انہوں  نے کہا کہ  12  ہزارفوجیوں کو روس کے ساتھ  سرحدوں جیسے کہ لٹویا، ایسٹونیا، لتھوانیا اور رومانیہ کے ساتھ  منتقل کیا  ہے تاہم ولادیمیر پیوٹن نے جو جنگ چھیڑی ہے وہ اس میں کامیاب نہیں ہونگے ۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ بیان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس کے خلاف مشترکہ اقدام کا اعلان کرنے کا کہا تھا۔  بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس کے کسی اقدام سے نیٹو کو خطرہ لاحق ہوا تو امریکا ردِعمل دے گا، خواہ اس سے عالمی جنگ ہی کیوں نہ شروع ہو جائے۔ تاہم اب انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ امریکا اپنی فوج یوکرین نہیں بھیجے گا ۔

اس سے قبل صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکا روس کے سی فوڈ اور ڈائمنڈز سمیت دیگر اشیاء پر پابندی لگائے گا۔ ان کاکہنا   تھا کہ ہماری پابندیاں، برآمدی کنٹرول اور روسی معیشت کو کچل رہی ہیں۔ جو بائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ روس نے اگر یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی فوج کی کارروائیوں کے دوران مارے گئے شہریوں کی تعداد 564 ہو گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی ہلاک شہریوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

Advertisement
Advertisement