اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نےقوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کو ملک کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔


وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خود داری ایک آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے، آج پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے،میں کسی کے سامنے جھکا اور نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سات مارچ کو بیرون ملک سے پیغام آیا،دھمکی آمیز خط لکھنے والوں کو تحریک عدم اعتماد کا پہلے سے علم تھا، کہا گیا تحریک کامیاب نہ ہوئی تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ کہا تھا نہ میں کبھی کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ کسی کے سامنے قوم کو جھکنے دوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 سال سے یہی میرا موقف تھا، جب اقتدار مجھے ملا تو فیصلہ کیا خارجہ پالیسی آزاد ہو گی، خارجہ پالیسی پاکستانیوں کے لیے ہو گی۔ اس کا مقصد کسی کا ساتھ دینا نہیں تھا،میں بھارت، امریکا اور برطانیہ کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت میں میں نے بہت کرکٹ کھیلی، امریکا میں سیاستدان میرے بہت دوست ہیں جبکہ برطانیہ میں میری ابتدائی زندگی گزری۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف دور میں مجھ سمیت تمام سیاستدانوں کو بریفنگ دی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ گئے تو امریکا ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا لیکن میں نے اس وقت بھی اس جنگ کے خلاف بیان دیا تھا،کیا ہم اپنے لوگوں کو قربان کروائیں؟
ان کا کہنا تھا کہ 80ء کی دہائی میں ساری جہاد قبائلی علاقوں میں لڑی گئی جبکہ ہمیں بتایا گیا کہ افغانستان میں غیر ملکی قبضہ ہو رہا ہے جس کے لیے ہم انہیں بچانا چاہتے ہیں، جنگ ہارنے کے بعد امریکا نے ہم پر پابندیاں لگا دیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس دوران پاکستانیوں نے بہت قربانیاں دیں، اس دوران کسی بھی ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں،قبائلی علاقہ پاکستان میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ تھاوہاں پر جرائم نہیں ہوتے تھے، وہاں پر دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع کی گئی، ہمارے لوگ مارے گئے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں نے جہاد سمجھ کر پاکستان کیخلاف جنگ لڑنا شروع کر دی،پرانا جہادی بھی پاکستان کیخلاف ہو گئے۔ نائن الیون میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا،ہمیں کہا گیا کہ پاکستان کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے امریکا افغانستان نہیں جیت پا رہا، ڈرون اٹیک ہوئے بہت نقصان ہوا، باجوڑ میں مدرسے کے بچوں پر ڈرون اٹیک ہوئے جس میں 80 بچے شہید ہوئے، دیگر علاقوں میں شادیوں پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں جب کہتا تھا یہ جنگ ہماری نہیں تو لوگ ہمیں طالبان خان کہتے تھے، میں نے وزیرستان مارچ کیے، امریکا سمیت باہر سے لوگوں نے میرے مارچ کی حمایت کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومتوں نے امریکا کا ساتھ دیا جس کے باعث وہ ہم پر حملہ کرتے تھے، مجھے حکومت ملی تو میں نے پہلے دن کہا تھا پاکستان کی پالیسی عوام کے مفاد میں ہو گی اور یہ پالیسی آزاد ہو گی،میری پالیسی، بھارت سمیت کسی کے خلاف نہیں۔

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 12 hours ago

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 14 hours ago

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 19 hours ago

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 18 hours ago

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 16 hours ago

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 14 hours ago

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 17 hours ago

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 18 hours ago

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 17 hours ago

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 18 hours ago

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 12 hours ago

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 17 hours ago











