جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔


خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

مریم نواز کے خلاف پوسٹ کرنے پر قومی کرکٹر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد
- 17 گھنٹے قبل

سال کی دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم کا اعلان، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر
- 21 گھنٹے قبل

ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کمانڈر علی رضا تنگسیری کی شہادت کی تصدیق
- 20 گھنٹے قبل

خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اوردیواریں گرنے سے 17 افراد جاں بحق
- 19 گھنٹے قبل

بلوچستان کے علاقے چمن اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، لوگوں میں خوف و ہراس
- 21 گھنٹے قبل

قومی مشاورتی اجلاس: صوبوں کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت، کفایت شعاری اقدامات کا عزم
- 15 گھنٹے قبل

صدر یورپین کونسل کا وزیراعظم کو فون،مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کیلئے کوششوں پر پاکستان کے کردار کی تعریف
- 17 گھنٹے قبل

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، فی تولہ قیمت کیا ہو گئی؟
- 21 گھنٹے قبل

گلوکارہ نصیبو لال نغمہ نگار الطاف باجوہ مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے ان گھر پہنچ گئیں
- 19 گھنٹے قبل

اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا،ٹرمپ کی ایک اور دھمکی
- 19 گھنٹے قبل

معروف ہدایتکارہ سنگیتا کی عظمیٰ بخاری سے ملاقات ،انڈسٹری کیلئے حکومتی گرانٹ پرشکریہ ادا کیا
- 18 گھنٹے قبل

کوئٹہ : وزیراعلیٰ کی دہشتگردوں سے مقابلے میں زخمی پولیس اہلکاروں کے بہترین علاج کی ہدایت
- 20 گھنٹے قبل












