جی این این سوشل

تجارت

پیٹرولیم ڈیلرز کی 18 جولائی سے ہڑتال کی دھمکی

چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے مطالبہ کیا کہ ہم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے۔ وزارت پیٹرولیم کو کہا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں منافع نہ بڑھایا گیا تو سخت فیصلہ کریں گے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پیٹرولیم ڈیلرز کی 18 جولائی سے ہڑتال کی دھمکی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 18 جولائی سے ملک بھر میں ہڑتال کی دھمکی دے دی۔

چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک مطالبات نہیں مانتے پمپس نہیں کھلیں گے اور حکومتی نمائندوں کو کچھ پتہ ہے نہ ہی کچھ سننا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہمیں فائدہ نہیں نقصان ہو رہا ہے اور سب سے زیادہ موٹر سائیکل والے پریشان ہیں۔ سابق حکومت نے جون تک 4 فیصد منافع بڑھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن منافع نہیں بڑھایا گیا۔

عبدالسمیع خان نے مطالبہ کیا کہ ہم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے۔ وزارت پیٹرولیم کو کہا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں منافع نہ بڑھایا گیا تو سخت فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری انویسٹمنٹ بڑھ گئی ہے اور بینک سود 13 فیصد ہوچکا ہے۔ ہم پر ڈیلرز کا بہت پریشر ہے اور اب کوئی فیصلہ بہت ضروری ہے۔

پاکستان

الیکشن کمیشن کاممنوعہ فنڈنگ کیس کافیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج

تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کاممنوعہ فنڈنگ کیس کافیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن کاممنوعہ فنڈنگ کیس کافیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج

 

پی ٹی آئی کے رہنما عمرایوب نےالیکشن کمیشن  کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

درخواست گزار کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ  ممنوعہ فنڈنگ کیس میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ متفقہ فیصلہ ہے، تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لیے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کیجانب سے جمع کروایا گیا بیان حلفی مس ڈیکلریشن ہے،پارٹی اکاونٹس کے حوالے سے بھی جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں نثار احمد راجہ اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل بینچ نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2022 کی دفعہ 6 کے تحت فیصلہ سنایا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہ کمیشن مطمئن ہے کہ جو ڈونیشن وصول ہوئی، وہ ابراج گروپ اور امریکا میں لی گئی،پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے بھی فنڈنگ وصول کی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 34غیر ملکیوں سے بھی ڈونیشن وصول کی گئی،تحریک انصاف نے 16 اکاونٹس کے حوالے سے وضاحت نہیں دی۔

کمیشن مطمئن ہو گیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے،پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاونٹس کی تصدیق کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے ضمنی الیکشن کے شیڈول کو فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد

جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ انتخابی شیڈول معطل کرنے کی قانونی وجہ کیا ہے؟۔

جسٹس عامر فاروق نے تحریک انصاف کی 9 حلقوں کے ضمنی الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی درخواست پرسماعت کی،پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ہماری استدعا ہے کہ الیکشن شیڈول معطل کیا جائے۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ آپ ایک الیکشن روکنے کی استدعا کر رہے ہیں کوئی قانونی جواز بتائیں؟  فیصل چوہدری نے موقف اپنایا کہ استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست زیرسماعت ہے۔

جسٹس عامرفاروق نےریمارکس دیئے کہ 123 حلقوں میں بھی الیکشن ہوجائے گا پہلے یہ تو ہونے دیں،آپ الیکشن لڑیں،فیصل چوہدری نے کہا کہ ہم تو الیکشن لڑنے کیلئے تیار ہیں، 123 حلقوں میں الیکشن کرائیں،عدالت نے کیس کی سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ڈاکٹررتھ فاؤ کو بچھڑے 5  برس بیت گئے

پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آج   پانچویں   برسی منائی جارہی ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈاکٹررتھ فاؤ کو بچھڑے 5  برس بیت گئے

 جرمنی میں پیدا ہونے والی یہ عظیم خاتون 57 سال پاکستان میں مقیم رہیں اورجذام کا مرض مملکت خداد سے ختم کرنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ 9ستمبر1929 کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہوئی تھیں ، ڈاکٹر رتھ فاؤ1960 میں پاکستان آئیں اور پھر جذام کے مریضوں کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی ،  وہ جذام کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کرتی تھیں۔

جرمنی کی سماجی تنظیم ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘ کی جانب سے جب انہوں نے پہلی مرتبہ کراچی کا دورہ کیا تو جذام کے مریضوں کو دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں رہ کراس مرض کے خاتمے کے لیے کوشش کریں گی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1963 میں آئی آئی چندریگر روڈ (پرانا میکلوروڈ) سے ملحقہ جذام کے مریضوں کی بستی میں مفت کلینک کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان میں ہزاروں مریض تھے۔ اس زمانے میں لوگوں کا عمومی رویہ تھا کہ ایسے مریضوں سے میل جول سے اجتناب برتتے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سنہ1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا اور پاکستان کو یہ اعزاز دلانے میں ڈاکٹررتھ فاؤ نے سب سے اہم کردار اداکیا ۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ جذام کے مریضوں کی مسیحائی کرنے کے لیے سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور شمال میں دور دراز علاقوں میں بھی گئیں اورایسے مریضوں جذام کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کی مسیحائی کے لیے انہوں نے کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی  چھوٹے کلینک قائم کیے اور یہ نیٹ ورک بڑھتے بڑھتے 157 لیپرسی سینٹرز تک پہنچ گیا۔

ان گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازت سے نوازا گیا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی ۔

لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll