جی این این سوشل

پاکستان

کراچی کے شہریوں کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 11 روپے سے زائد کا اضافہ

کراچی:نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں11 روپے10 پیسے کا اضافہ کر دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کراچی کے شہریوں کیلئے بجلی  کی فی یونٹ قیمت میں 11 روپے سے زائد کا اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق نیپرا نے کے الیکٹرک کے جون کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 11 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق اگست اور ستمبر کے ماہ کے بلوں پر ہو گا۔

نیپرا کے مطابق فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ اگست میں 3 روپے ایک پیسہ جبکہ ستمبر میں 8 روپے 9 پیسے چارج کیا جائے گا، لائف لائن صارفین کے علاوہ اطلاق کے الیکٹرک کے تمام صارفین پر اطلاق ہو گا۔

بجلی مہنگی ہونے سے کراچی کے صارفین پر 25 ارب روپے سے زیادہ اضافی بوجھ منتقل ہو گا، نیپرا کے مطابق بجلی جون کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ایک ماہ کیلئے مہنگی کی گئی ہے۔

پاکستان

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

 

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا لیکن عمران خان نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ میں بیمار ہوں پیش نہیں ہوسکتا۔ مریم نواز نے اب یہ مؤقف لیا ہے کہ یہ گھر ہی میرا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں اور ساری سازشیں ہم نے ناکام بنائیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ یہ حکومت صرف اٹک کا پل ہی پار کر کے دکھا دیں لیکن یہ صرف سیکیورٹی حصار میں بیٹھ کر بڑھکیں مارتے ہیں۔ آئین کے 62 ایف آرٹیکل میں ترامیم کی ضرورت ہے اور اگر تبدیلی لانی ہے تو دو تہائی اکثریت سے سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں لائیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ اگر کوئی تبدیلی لا سکتا ہے تو وہ عمران خان ہیں اور ہم لوگ دو تہائی اکثریت سے واپس آ رہے ہیں۔ اب باپ بیٹی دونوں کہتے ہیں کہ سائفر ہے اور لکھا ہوا بھی مان گئے۔ قومی سلامتی کی جو کمیٹی ہے سب نے کہا سائفر ہے اور سب نے کہا زبان مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کے لیے تاریخی لانگ مارچ کریں گے اور ہم لانگ واک ٹو فریڈم کریں گے لیکن کیا صورت ہو گی عمران خان بتائیں گے۔ قوم عمران خان کے ساتھ جاگی ہوئی ہے اور سب سے بڑا عوامی، جمہوری پر امن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو سیاست کی ٹیسٹنگ لیب نہ بنائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں : وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ عمران نیازی پاکستان کا سب سے جھوٹا وزیر اعظم ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں : وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں اور اگر آڈیو لیک کرنی ہوتی تو ہم اپنی کیوں کراتے ؟

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا تھا اور صدر نے 20 منٹ میں اسمبلی توڑنے کی سمری منظور کی۔ ہماری سمریاں صدر مملکت کے پاس مہینوں پڑی رہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے گئے جس کا کوئی سر تھا نہ پیر اور عمران خان نے ملک کے ساتھ سازش کی۔ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا کہ ہم نے کھیلنا ہے امریکہ کا نام نہیں لینا۔ انہوں نے قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں لیکن آج اس سازش کاتانا بانا عمران خان کے ساتھ مل چکا ہے۔ سازشی ٹولے نے کہا کہ سائفر کے منٹس ہم اپنی مرضی سے بنائیں گے جبکہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے ملک کا وقت برباد کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کے اعتماد کے ساتھ کھیلا گیا اور اتحادی حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ سائفر کے معاملے پر قوم اور ملک کے ساتھ بدترین بددیانتی کی گئی اور ملکی سالمیت کے ساتھ کھیلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سازشی ٹولہ کہہ رہا ہے کہ منٹس ہم بنائیں گے۔ سنگین واردات کی گئی اور کھیل کھیلا گیا لیکن اس سازش کا دور دور تک اس سائفر سے تعلق نہیں۔ یہ بھیانک واقعہ جو پاکستان کے ساتھ پیش آیا جس کی ذمہ داری عمران ٹولہ پر ہو گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ تقریبا 100 ارب روپیہ وفاقی خزانہ سیلاب متاثرین پر خرچ کر چکا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وفاقی حکومت 70 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ مخیر حضرات کو بھی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے اور سب اپنے اختلافات بھلا کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

انہوں نے عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پتھر دل انسان ہے اور انسانوں کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے جس طرح سیلاب متاثرین کا مقدمہ لڑا میں نہیں لڑ سکتا۔ امریکہ اور چین نے بھی سیلاب متاثرین کے لیے امداد دی لیکن عمران خان نے خارجہ امور میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے، عمران خان سر سے پاؤں تک فراڈیہ ہے اور عمران خان قوم کو تنہائی میں لے کر گیا جبکہ عمران خان نے فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جبکہ پاک فوج نے دہشت گری کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں۔ عمران خان نے پاک فوج کے لیے نیوٹرل، چوکیدار اور کیا کیا الفاظ استعمال نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ سائفر ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا، اگر ہوتا تو دوست ممالک سے رابطوں کی دستاویز لیک ہو جائیں۔ وزیراعظم کی سائفر کاپی غائب کر دی گئی اور آڈیو ہر چیز بتا رہی ہے اس کے بعد اور کیا ثبوت چاہیئیں۔ مریم نواز کو عدالت عالیہ نے کلین چٹ دی ہے جبکہ مریم نواز اپنے والد کے ساتھ نیب عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 4 سال سے بتا رہا تھا کہ عمران خان جھوٹا ترین شخص ہے اور عمران خان کو اپنا چہرہ شیشوں میں دیکھنا چاہیئے۔ کیا ان کی ہمشیرہ کو این آر او میں نے دیا تھا؟ ان کی اپنی حکومت کے دوران ایف بی آر نے علیمہ خان کو این آر او دیا تھا۔ علیمہ خان کے نیویارک اور دبئی میں اثاثے تھے جو ڈیکلیئر نہیں تھے اور چینی کے اسکینڈل میں این آر او تو میں نے نہیں دیا جبکہ چینی اسکینڈل تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس میں 50 ارب روپے کا ڈاکا ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے کیس کا نیب ترمیم سے کوئی تعلق نہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کا تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکا عمران خان نے ڈالا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

 

وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے، اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے دلائل دئیے کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نااہل قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ جھوٹا حلف نامہ جمع کراوانے کے مرتکب ہوئے۔ فیصل واوڈا سنہ 2018 کا الیکشن لڑنے کے وقت اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll