جی این این سوشل

پاکستان

وزیراعظم کا بلوچستان میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے حادثے پراظہار افسوس

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیراعظم کا بلوچستان میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے حادثے پراظہار افسوس
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ  ہرنائی بلوچستان میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں 2 پائلٹس سمیت 6 فوجی اہلکاروں کی شہادت پر دل شدید دکھی اور رنجیدہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ شہداء کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے ۔  پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہے۔

 

واضح رہے بلوچستان میں پاک فوج کا ایک اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے، ، پاک آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر فلائنگ مشن پر تھا۔ حادثے میں دو میجرپائلٹ  سمیت 6 جوان شہید ہو گئے۔ 

پاکستان

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

برطانوی ہائی کمیشن کو خط رجسٹرارسپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پرلکھا۔

تفصیلات کے مطابق خط کے متن کے مطابق ہائی کمشنرنےعاصمہ جہانگیرکانفرنس میں جمہوریت، کھلےمعاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کاازالہ کیا ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ برطانیہ بھی غلطیوں کاازالہ کرے۔

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا۔

رجسٹرارنے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنرجین میریٹ کےنام بھجوایا جس میں کہا گیا کہ عاصہ جہانگیرکانفرنس میں آپکی تقریرمیں جمہوریت کی اہمیت کواجاگرکیا گیا۔ آپ کی تقریرمیں انتخابات اورکھلے معاشرےکی اہمیت کواجاگرکیاگیا۔

خط کے متن کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے، انتخابات بروقت نہیں ہوسکے تھے کیونکہ صدر، الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے، پاکستان میں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کےاندرانتخابات ضروری تھے ، خط میں لکھا گیا کہ صدر، ای سی متفق نہیں تھے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیارکس کو ہے، سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دن میں حل کردیا، 8 فروری2024کوپورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ الیکشن لڑنےکے خواہشمندبہت لوگوں کو تاحیات  پابندی کاسامناکرناپڑتاتھا۔

خط یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سےانہیں ایماندار’’صادق وامین‘‘ نہیں سمجھاجاتاتھا، بنچ نے پہلے کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے کہا یہ آئین وقانون کےمطابق نہیں۔ انٹراپارٹی الیکشن آمریت روکنے، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی ضرورت ہے۔

رجسٹراسپریم کورٹ کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ جمہوری اصول کی تعمیل کویقینی بنانےکےلیےقانون میں شرط رکھی گئی ہے، انٹراپارٹی الیکشن نہیں کراتی تو پارٹی انتخابی نشان کیلئے اہل نہیں ہوگی۔ ایک جماعت نے خود قانون کےلیے ووٹ دیا اس نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائےتھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے خط میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نےاس بات کااعادہ کیاقانون نےکیاکہاہے، اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقید بلاجوازتھی، موجودہ چیف جسٹس کےعہدہ سنبھالنے کے بعد مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔

برطانوی ہائی کمشنر کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارعوامی اہمیت کےمقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشرکرنے کی اجازت دی، پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کارروائی کو مکمل طورپردیکھ سکتےہیں۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ مقدمات لائیو نشرکرنے سے عوام کوبھی شفافیت اورفیصلوں سے متعلق علم ہوگا، انٹراپارٹی الیکشن، پارٹی نشانات سے متعلق فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا بھی براہ راست نشرکیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

فرانس کی قانون ساز اسمبلی میں فلسطینی پرچم لہرانے سے رکن کی رکنیت معطل

جھنڈا تھامے فرانسیسی رکن اسمبلی نے بآواز بلند فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیل کی مذمت کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فرانس کی قانون ساز اسمبلی میں فلسطینی پرچم لہرانے سے رکن کی رکنیت معطل

فرانس کی قانون ساز اسمبلی میں فلسطین کی حمایت کرنے اور پرچم لہرانے پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین کی رکنیت 2 ہفتوں کے لیے معطل کر دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی جس کے دوران بنیاد پرست بائیں بازو کی جماعت ‘فرانس انبوڈ’ کے رکن اسمبلی سیبسٹین ڈیلوگو اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور فلسطین کا جھنڈا لہرادیا۔

جھنڈا تھامے فرانسیسی رکن اسمبلی نے بآواز بلند فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیل کی مذمت کی۔ اسپیکر بار بار بیٹھنے کا کہتی رہیں لیکن رکن اسمبلی نے اپنی بات جاری رکھی۔

ایوان کی خاتون اسپیکر، یئل بران پیویٹ نے فلسطینی پرچم لہرانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں یہ رویہ ناقابل قبول ہے جس پر اُن کی 2 ہفتے کے لیے رکنیت معطل کی جاتی ہے۔

اسپیکر نے فلسطینی پرچم لہرانے والے رکن اسمبلی کے پارلیمانی الاؤنس کو بطور جرمانہ 2 ماہ کی مدت کے لیے نصف کردیا۔

یاد رہے کہ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا جس کے بعد فرانس میں بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کی رائے عامہ ہموار ہوئی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فروری میں کہا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اب ’ممنوع‘ نہیں رہا۔ اب تک اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 145 نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان سری لنکن طلباء کو طبی اور مذہبی شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا

سری لنکا کے وزیر مذہبی ودورا وکرمانائیکے نے کہا کہ سری لنکن نوجوانوں کے لیے پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بھی مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان سری لنکن طلباء کو طبی اور مذہبی شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا

اسلام آباد: مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے وزیر چوہدری سالک حسین نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان سری لنکن طلباء کو طبی اور مذہبی شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا۔

سری لنکا کے مذہبی اور ثقافتی امور کے وزیر ودورا وکرمانائیکے سے گفتگو کرتے ہوئے جنہوں نے اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی، انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے طلباء کے لیے وظائف کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

چوہدری سالک حسین نے معزز مہمان کو بتایا کہ پاکستان میں گندھارا ثقافت، فن اور ڈھانچے کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے روشنی ڈالی کہ پاکستان حسن ابدال میں سکھوں اور دیگر مذاہب کے بہت سے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

سری لنکا کے وزیر مذہبی ودورا وکرمانائیکے نے کہا کہ سری لنکن نوجوانوں کے لیے پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بھی مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔

چوہدری سالک حسین سے قازقستان کے سفیر یرژان کستان فان نے بھی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور پاکستانی طلباء کا ڈیٹا قازقستان کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ تشدد کا کوئی واقعہ نہ ہو ،  انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں ایئرلائن کے کاروبار میں بڑی صلاحیت ہے اور قازقستان کی ایئر لائن پاکستان کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

قازقستان کے سفیر نے کہا کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنا مسلم ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان آئندہ ماہ ایک مذہبی کانفرنس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سے مذہبی مکالمے کو تقویت ملے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll