جی این این سوشل

دنیا

متحدہ عرب امارات نے 2023 کے لیے سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا

مملکت کے رہائشیوں کو آئندہ سال کئی طویل ویک اینڈز ملیں گے، جن میں 6 دن کی چھٹیوں کا بھی امکان ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

متحدہ عرب امارات نے 2023 کے لیے سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 متحدہ عرب امارات کے رہائشی 1 سے 4 دسمبر تک چار دن کی چھٹی سےلطف اندوز ہوں گے ،تاکہ مملکت کا قومی دن منا سکیں، جو 2022 کی آخری سرکاری چھٹیاں ہوں گی۔

جبکہ یو اے ای کی جانب سے 2023 کے لیے سرکاری تعطیلات کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو آئندہ سال کئی طویل ویک اینڈز ملیں گے، جن میں 6 دن کے چھٹیوں کا بھی امکان ہے۔ 

واضح رہے کہ مملکت میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز کے لیے ایک متفقہ فہرست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملازمین کو مساوی چھٹیاں ملیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے سرکاری اور نجی شعبوں کے لیے 2023 کی سرکاری تعطیلات کی منظوری دے دی ہے۔

ملک کے رہائشی اگلے سال کئی طویل ویک اینڈز کیلئے تیار ہو جائیں، جن میں چھ دن کی چھٹیاں بھی شامل ہے۔ 

حکومت کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق اگلے سال کی چھٹیوں کی مکمل فہرست درج ذیل ہے۔گریگورین نیا سال: یکم جنوری۔

عید الفطر: 29 رمضان سے 3 شوال۔یوم عرفہ: ذوالحجہ 9۔عید الاضحی: ذوالحجہ 10سے 12۔ہجری نیا سال: 21 جولائی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت: 29 ستمبر۔متحدہ عرب امارات کا قومی دن: دسمبر 2سے 3۔ جیسا کہ ظاہر ہے، فہرست میں مذکور کچھ تعطیلات ہجری اسلامی کیلنڈر پر مبنی ہیں۔ 

ان کی متعلقہ گریگورین تاریخیں چاند دیکھنے پر منحصر ہوں گی۔عید الفطر: ہجری کیلنڈر کے مطابق، تاریخیں 29 رمضان سے 3 شوال تک ہیں۔

فلکیاتی حسابات کے مطابق، یہ جمعرات، 20 اپریل، اتوار، 23 اپریل تک ہوگی۔ اصل تاریخیں چاند نظر آنے سے مشروط ہیں۔اسی طرح یوم عرفہ اور عید الاضحی: ان میں ممکنہ طور پر چھ دن کی چھٹیاں ملیں گی۔

اگلے سال سب سے طویل چھٹی منگل، 27 جون، سے جمعہ، 30 جون تک ہونے کا امکان ہے اور اگر واقعی ایسا ہوا تو، ہفتہ-اتوار کی چھٹی والے افراد کو چھ دن کا ویک اینڈ مل جائے گا۔ 

ہجری نیا سال: 21 جولائی کو جمعہ ہے۔

یہ ہفتہ-اتوار کی چھٹی والے لوگوں کے لیے تین دن کے ویک اینڈ کا باعث بنے گا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا یوم ولادت: 29 ستمبر بھی جمعہ کا دن ہے۔ یہ مملکت کے رہائشیوں کے لیے ایک اور تین دن کا ویک اینڈ ہوگا۔

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی آج 71 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی۔

تقریبات میں پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آج لیاری میں کارکنان کے ہمراہ والدہ کی سالگرہ منائیں گے۔

21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو عالمی اور ملکی سیاست میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے ریڈ کلف کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، اقتصادیات اور فلسفے میں ڈگریاں حاصل کیں۔

شہید بے نظیر بھٹو اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جایا کرتی تھیں۔

1982 میں بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جلاوطنی کے بعد وہ 1986 میں پہلی بار جب لاہور پہنچیں تو ان کا تاریخی استقبال ہوا اور انہوں نے ملک بھر کا دورہ کیا۔

1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی ۔ 1988 میں عام انتخابات کے دوران بے نظیر بھٹو نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے بھاگ دوڑ سنبھالی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 7 اگست 1990 میں صدر اسحاق خان نے بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے برطرف کر دیا جس کے بعد 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں۔

1996 میں پیپلز پارٹی کے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن کے باعث بے نظیر کی حکومت کو پھر سے برطرف کر دیا۔

بعدازاں 19 اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئی تھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس کے دوران کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کا نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی رد عمل قابو سے باہر ہو جائے، وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

علی امین گنڈا پور کے زیر صدارت اجلاس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریزاوردیگر نے شرکت کی اور اجلاس میں بجلی لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کو بتایا گیا کہ گزشتہ مہینےلاسزوالےعلاقوں سے1ارب روپےکی ریکوری ہوئی، صوبے میں پیسکوکی تنصیبات اور عملے کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ میں زیرولوڈشیڈنگ وعدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، یکم مئی 2024 سےاب تک لوڈ شیڈنگ کےخلاف 81 مظاہرے ہوئے، اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی توسنگین مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہےغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےعوامی رد عمل سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے، صوبے میں لاسز کو ختم کرنے کے لئے بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll