جی این این سوشل

صحت

ایڈزسے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز (ایچ آئی وی )سے بچاؤ اور آگاہی کا دن آج منایا جارہا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایڈزسے بچاؤ اور  آگاہی کا عالمی  دن آج منایا جارہا ہے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی مرتبہ 1987ء میں منایا گیا ، ا س  بیماری کا عالمی دن منانے کا مقصد اس انتہائی مہلک مرض کے بارے میں آگاہی دینا اور ایڈز سے بچاؤ سے متعلق حفاظتی احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے ۔ 

اس حوالے سے  ماہرین طب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں میں کمی آرہی ہے لیکن پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔

ملک میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار ہوگئی ہے، جنوری سے نومبر 2022 تک کراچی میں 970 مریض رپورٹ ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق کوئٹہ اور گوادر سمیت بلوچستان کے 6 اضلاع ہائی رسک قرار دیے گئے ہیں ۔

استعمال شدہ سرنج، غیرمحفوظ انتقال خون، اسکریننگ کے نامناسب انتظامات، جراثیم زدہ آلات جراحی، حجامت کے دوران آلودہ آلات اور غیرمحفوظ جنسی تعلقات ایچ آئی وی پھیلانے کا بڑا سبب ہیں۔

ایڈز کا مرض ایک وائرس ایچ آئی وی کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف احتیاط ہی کے ذریعے اس بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

 ایک تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے چند دن بعد 85 فیصد افراد کو انفیکشن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کا بروقت علاج مرض کو جان لیوا ہونے سے بچا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا علاج بروقت تشخیص اور احتیاط کے ساتھ ساتھ مثبت رویہ اپنائے بغیر ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو اس مرض کے بارے میں شعور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کسی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ کے پی

اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر  بات ہوئی، علی امین گنڈا پور

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کسی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ کے پی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں ایک پالیسی بتائی گئی، پالیسی تھی کہ امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے، میٹنگ میں عزم پاکستان کا نام آیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر  بات ہوئی، دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس حوالے سے سارے پاکستان بشمول کشمیر و گلگت میں ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کو عزم پاکستان کا نام دیا گیا، اس میں آپریشن کا لفظ نہ پہلے ڈسکس ہوا نہ کبھی بعد میں اس کا ذکر ہوا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ میری آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، میں عسکری قیادت سے ملنا چاہتا ہوں آپریشن پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کا لفظ نہ پہلے تھا نہ بعد میں، بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشتگردی میں کمی آئی، ہم نے سی ٹی ڈی کو بہتر کیا، ہماری پالیسی ہے عوام کو پہلے اعتماد میں لیا جائے، دہشت گردی کا مقابلہ عوام کے بغیر نہیں کر سکتے، صوبوں اور پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو پالیسی آئی ہی نہیں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے، بلاول بھٹو نے پوری دنیا کا چکر لگایا مگر افغانستان نہیں گئے، ان کو ہمارے افواج پاکستان کے جوانوں اور سویلین جوانوں کی پرواہ نہیں، مقابلہ کرنے کیلئے ایک بہترین پالیسی اور بات چیت ہونی چاہئے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا ہے آپ افغانستان سے بات چیت کی پالیسی بنانا چاہتے ہیں تو کردار ادا کرسکتے ہیں، ہم پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کے لیے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔

اعلی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی کہہ رہے تھے پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہوں، ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ٹرم اینڈ کنڈیشنڈ وہی ہوں گی، تحقیقات ہونی چاہئیں 9 مئی کیسے ہوا کس نے کیا؟، ہماری پہلی شرط ہے مینڈیٹ چوری، فارم 45 پر بات ہوگی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہمارا صوبہ بجلی بنانے والا ہے، آئین میں ہمارے حقوق ہیں، بجلی نہیں دی جا رہی، لوڈشیڈنگ کی ایک حد ہے، کہتے 12 گھنٹے تھے لیکن لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے کی ہو رہی تھی، میں یہ چیزیں نہیں چاہتا لیکن عوام کی تکلیف دیکھنی پڑے گی۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے بجلی کی مد میں آپ نے 510 ارب روپے دینے ہیں، ہم نے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، ملک کے حالات کو بھی دیکھ رہے ہیں، ہم نے ایک ماہ میں 1 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر گورنر کا صوبے میں کوئی کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا مجھ پر 50 الزام لگا چکے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا کا سیاسی باتیں کرنے کا کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا گھومتے پھر رہے ہیں، میں برداشت کر رہا ہوں، میرے لوگوں کو اٹھایا گیا، توڑا گیا، لوگ بے وقوف نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں، گورنر خیبر پختونخواہ

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں، گورنر خیبر پختونخواہ

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں۔


گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی پشاور میں اے این پی کے باچا خان مرکز پہنچ گئے۔ گورنر نے اے این پی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی و سیاسی معاملات  پر بات چیت کی گئی۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، بہتر ہوتا کہ آپریشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لیا جاتا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی

وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی

صدر مملکت نے سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی، وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

صدر مملکت نے جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری  دے دی۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے تینوں ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll