ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے کہا کہ بس پانچ دس منٹ میں فیصلہ سنا دیتا ہوں۔


اسلام آباد کی عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کیخلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں پولیس کی جانب سے8روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ جو کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔
پولیس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پرفیصلہ محفوظ ہونے پررہنماتحریک انصاف فواد چودھری کاعدالت سے کہنا تھا کہ جب تک فیصلہ نہیں آتا مجھے فیملی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے کہا کہ بس پانچ دس منٹ میں فیصلہ سنا دیتا ہوں۔ عدالت نے فیصلے تک فواد چوہدری کو فیملی سے ملاقات کی اجازت دیدی۔ فواد چوہدری کو کمرہ عدالت سے ہتھکڑی لگائے ہوئے بخشی خانہ منتقل کر دیا گیا۔
اہل خانہ سے ملاقات کے بعد فواد چودھری کو میڈیکل کے لیے پمز لایاگیا۔کارڈک سینٹر میں موجود ڈاکٹرز نے فواد چوہدری کا طبی معائنہ کیا۔ڈاکٹرز نے فواد چوہدری کو تندرست قرار دے دیا۔
دوسری جانب فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ تحریر کر لیا گیا ۔عملہ فیصلے کا پرنٹ نکال کر جج کے دستخط کرانے لے گیا۔
یہ بھی پڑھیں :-مجھ پر تشدد نہیں کیا گیا، لیکن رویہ افسوسناک تھا، فواد چوہدری
اسلام آباد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے سے قبل کمرہ عدالت چھوٹا ہونے کی وجہ سے سماعت کی جگہ تبدیل کی گئی۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنان نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکم پیل بھی ہوئی، پولیس افسر کی جانب سے احاطہ عدالت کو چیک کرنے کے بعد فواد چودھری کو منہ پر سفید چادر سے ڈھانپ کے کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران فواد چودھری کے بھائی فیصل چودھری نے وہاں موجود تحریک انصاف کے کارکنوں سے کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ آپ کی فواد چودھری سے ملاقات بھی کروائیں گے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے فواد چودھری کی ہتھکڑی کھوکنے کی استدعا کی، فواد چودھری نے عدالت سے کہا اسلام آباد پولیس کو کہیں کہ اس طرح نہ کریں، باہر 1500 پولیس والے ہیں، مجھے ہتھکڑی لگائی ہوئی، میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، پانچ منٹ فیملی سے بات کرنی ہے اور پانچ منٹ اپنے وکلاء سے۔
مزید پڑھیں :- حکومت عمران خان کی گرفتاری کے لئے میٹنگ کر رہی ہے، شیخ رشید
جس کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا، اپنے دلائل میں انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کروانے کے تمام اختیارات ہیں، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کیا جا رہا، ملزم نے شہریوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، یہ عوام کیلئے رول ماڈل ہیں، ان کی تقریر کا مقصد گروپس کو اشتعال دلانا تھا۔
وکیل سعد حسن نے عدالت کو بتایا کہ فواد چودھری کی تقریر کرنے کا مقصد سب کو اکسانا تھا، فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے گھروں تک پہنچیں گے، ان کا مقصد الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا، ایف آئی آر میں بغاوت کی دفعات بھی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کے ممبران کو دھمکایا جا رہا ہے، پہلے ریمانڈ کیلئے ملزم کو پیش گیا ہے، مزید تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ عدالت کے سامنے مواد رکھ سکتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کو پرائیویٹ لوگوں کی جانب سے دھمکی آمیز خط لکھے جا رہے ہیں، میں وہ مواد عدالت کو چیمبر میں دکھا سکتا ہوں، پبلک میں نہیں، فواد چودھری کے خلاف کافی الیکٹرانک مواد موجود ہے، میں الزامات پڑھ رہا تھا تو فواد چودھری انشاللہ ماشاءاللہ کہہ رہےتھے۔
مزید پڑھیں :-اسلام آباد : فواد چوہدری کو چہرہ ڈھانپ کر ایف ایٹ کچہری پہنچا دیا گیا
وکیل سعد حسن نے مزید کہا کہ فواد چودھری نے جو تقریر میں کہا وہ انہوں نے مانا بھی ہے، کیا فواد چودھری کے حوالے سے فیصلہ کرنا درست نہیں، ان کی تقریر کے پیچھے لوگوں کا معلوم کرنا ہے، ان کی تقریر کے پیچھے ایک مہم چل رہی ہے، فواد چودھری کے بیان پر پولیس کو ابھی تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے، جس پر پی ٹی آئی رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا تو الیکشن کمیشن کی حالت منشی کی ہوئی ہوئی ہے، جس پر عدالت نے فواد چودھری کو کہا کہ آپ ایک جانب آ جائیں، دوسرے فریقین کو دوسری طرف آنے دیں۔
فواد چودھری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے خلاف مقدمے میں بغاوت کی دفعات شامل کی ہیں، مجھے نیلسن منڈیلا، ابو الکلام آزاد جیسے بڑے رہنماؤں کی صف میں شامل کر دیا ہے، اس ایف آئی آر کو خارج کرنا چاہئے، یہ بنتی نہیں ہے، بغاوت کی دفعہ بھی مقدمہ میں لگا دی گئی ہے، آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بھی ایسی ہی باتیں ہوتی تھیں۔
مزید پڑھیں :-صدرعارف علوی کی عمران خان سے ہنگامی ملاقات ،انتہائی قدم سے روک دیا
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ میرے خلاف تو مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، جو میں بات کروں وہ میری پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ جو میں بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو، الیکشن کمیشن نہ ملک کی اسٹیٹ ہے نہ حکومت ہے۔
انہوں نے کہا اس ایف آئی آر کو قانونی ڈاکیومنٹ مان لیا گیا تو یہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، ان کے دلائل کو مان لیں تو اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی پالیسی یا ادارے پر تنقید ہو تو بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا جائے گا، میں کسی اجتماع سے خطاب نہیں کر رہا تھا، میڈیا ٹاک کر رہا تھا، میں دھمکی نہیں دے رہا تھا ، سمجھا رہا تھا، مجھے اسلام آباد پولیس نے گرفتار نہیں کیا، لاہور پولیس نے گرفتار کیا۔

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار
- ایک دن قبل

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم
- ایک دن قبل
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 9 گھنٹے قبل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک
- 3 گھنٹے قبل

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
- ایک دن قبل
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا
- 10 گھنٹے قبل

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
- ایک دن قبل
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
- 7 گھنٹے قبل

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ
- ایک دن قبل
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے
- 10 گھنٹے قبل

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی
- ایک دن قبل
ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول
- چند سیکنڈ قبل









