جی این این سوشل

پاکستان

صحافی عمران ریاض کیخلاف بغاوت کا مقدمہ خارج،عدالت کا رہا کرنے کا حکم

عدالت نے عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

صحافی عمران ریاض کیخلاف بغاوت کا مقدمہ خارج،عدالت کا رہا کرنے کا حکم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

عمران ریاض کیخلاف بغاوت کا مقدمہ خارج،لاہور کی مقامی عدالت نے صحافی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں اینکر اور صحافی عمران ریاض کیخلاف درج مقدمے سے متعلق سماعت ہوئی،

عدالت نے عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے عمران ریاض کیخلاف بغات کا مقدمہ خارج کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ 

ایف آئی اے نے عدالت سے عمران ریاض کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صحافی اور اینکر پرسن عمران ریاض خان کو لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا۔

ایف آئی اے نے عمران ریاض خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔مقدمے کے مطابق عمران ریاض کو کانفرنس کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے میں ملوث پایا گیا جو ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ 

گرفتاری کے بعد عمران خان ریاض کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی انے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

عمران ریاض کو متنازعہ بیانات کے باعث ایف آئی اے نے دبئی جانے سے قبل لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کیا،اس حوالے سے خود صحافی عمران ریاض نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بذریعہ ٹوئٹ آگاہ کیا،

صحافی نے کہا کہ انہیں ایئر پورٹ پہنچنے پر علم ہوا کہ ان کا نام بلیک لسٹ کر دیا گیا جبکہ ان کے فون سمیت دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا۔ 

عمران ریاض کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب کہا گیا کہ صحافی کو ایف آئی اے نے گرفتار کر کے نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا۔

عمران خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران ریاض کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کیا۔

وکیل کا مزید بتانا تھا کہ عمران ریاض کو لاہور ائیر پورٹ سے حراست میں لیا گیا،ان پر درج مقدمے کی تفصیلات نہیں بتائی جا رہیں،ایف آئی اے کی گرفتاری خلاف قانون ہے،

عدالتی فورم پر مقابلہ کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی عمران ریاض کو بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم چند روز بعد عدالت نے صحافی کی ضمانت منظور کی تھی۔

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔

لاہور پریس کلب میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما سنی اتحاد کونسل ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ آپ ہمارے بندوں اور لیڈر کو ناجائز مقدمات میں گرفتار کرتے ہیں، آپ خود 18کروڑ کی گاڑیاں لے رہے ہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 28 جون کو اپوزیشن کے چیمبر کو تالہ لگا دیا۔

ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، آپ کسی کی خوشی کیلئے اپنی شخصیت کو کیوں داغدار کررہے ہیں، انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیکا ایکٹ ک تحت سائبر عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی ایم پی اے ٹی اے ڈی اے لینے نہیں گیا، آپ پچھلی تمام حاضریاں نکلوائیں، ہمارے 11اراکین اسمبلی کو بغیر نوٹس معطل کردیا گیا، ہماری جمہوری جماعت ہے اپنی ٹیم کے بغیر نہیں چل سکتا۔ آمریت جیسی حکومت چل رہی ہے۔ یہ جتنے بھی مقدمات بنا رہے ہیں ان کے تابوت میں آخری کیل ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی اور ایم پی ایز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتے ہیں، ہم عدالتوں کے دروازے پر دستک دیں گے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم میں خود کار ڈائریکٹرتعینات

عمر فاروق خان فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر مسعود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم میں خود کار ڈائریکٹرتعینات

وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نئے ڈائریکٹر تعینات کر دیے۔

 اعلامیے کے مطابق پاور ڈویژن کی جانب سے آئیسکو، فیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو اور حیسکو کے لیے خودمختار ڈائریکٹر مقرر کر دیے

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 11 میں سے 6 سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نئے بورڈز تشکیل دیے گئے ہیں، نئے ڈسکوز بورڈز کی تشکیل 3 سال کے لیے ہو گی۔

عمر فاروق خان فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر مسعود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔

عامر ضیاء لاہور اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کے چیئرمین تعینات ہوئے ہیں جبکہ حمایت اللہ خان پشاور اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کے چیئرمین ہوں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈائریکٹرز کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے پر نئے بورڈز تشکیل دیے گئے، وزیر برائے پاور کی سربراہی میں بورڈ نامزدگی کمیٹی نے بورڈز تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 24 جون کو 9 ڈسکوز کے نئے بورڈز تشکیل دینےکی منظوری دی تھی جبکہ وزیراعظم نے حیدر آباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کی تشکیل نو کا معاملہ روک دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll