انتہاپسندانہ رویوں کے حامل ممالک کووافر مقدار میں جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں، مستقل نائب مندوب عامر خان
مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اپروچ کی ضرورت ہے

اقوام متحدہ: کچھ ممالک خاص طور سے انتہاپسندانہ نظریات اپنائے ہوئے ممالک کووافر مقدار میں جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نائب مندوب عامر خان نے سلامتی کونسل میں ہتھیاروں اور آلات کی بغیر کنٹرول کے برآمدات پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے کیسز میں کچھ ریاستوں کی حد سے زیادہ قومیت پرستی اور بالادستی پر مبنی پالیسیوں، خاص طور سے ان ریاستوں کی جو انتہاپسندانہ نظریات کو اپنائے ہوئے ہیں، امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ ریاستیں روایتی اور جوہری ہتھیاروں، بشمول ان کے حصول کے حوالہ سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ان کوششوں کا مقصد ہمسایہ ممالک کو دھمکانا، علاقائی بالادستی اور بڑی طاقتوں کی خواہشات کو فروغ دینا ہے۔ یہ ریاستیں اپنے ہاں موجود اقلیتوں پر جبر اور خودمختاری کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے راستے پر بھی چل رہی ہیں۔
عالمی برادری کی طرف سے احتساب نہ ہونےکے نتیجہ میں ان ریاستوں کی جرات بڑھ گئی ہے اور متعدد ذرائع سے جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فیاضانہ فراہمی نے ان ریاستوں کی جارحیت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزای کی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ حقیقی جنگ کی بجائے جنگ کی وجوہات پر توجہ دینا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی روز افزوں اور ناقابل قبول انسانی قیمت، خاص طور سے غیر ملکی قبضے اور حق خودارادیت کے دبانے کی صورتحال میں ان کی جو انسانی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اپروچ کی ضرورت ہے۔
تمام ریاستوں سے یونائیٹڈ نیشنز پروگرام آف ایکشن جیسے میکانزمز پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس حوالے سے خاص طور سے ترقی پذیر ممالک کے لئے زیادہ مستحکم بین الاقوامی معاونت، تعاون اور وسائل کی ضرورت ہے۔
ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیوں پر عملدرآمد کے دوران آرمز کنٹرولز کو بہتر بنانا اور ہتھیاروں کی ٹریسنگ میں تعاون بڑھانے سمیت تما م متعلقہ اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسی تمام کوششوں کا مقصد ہتھیاروں کی فراہمی کو ریگولیٹ کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو سیاسی عزم کو متحرک کرنے کی، میکانزم تشکیل دینے اور طویل عرصہ سے حل طلب تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت ہے جو تنازعات اور دہشت گردی اور منظم جرائم کے پس منظر میں کارفرما عوامل کو تقویت دینے کی بنیادی وجوہات ہیں۔پاکستانی مندوب نے اس صورتحال کے پس منظر میں ہتھیاروں کی بے حد پیداوار، تجارت ، استعمال اور اس کے معاشرتی اثرات کے درمیان روابط بارے نئے عالمی مباحثہ شروع کرنے کی تجویز دی۔

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
- 5 hours ago

'مجھے دھمکیاں دی گئی ہیں'، میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا انکشاف
- 5 hours ago

بیرونِ ملک سفر کے لیے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی، تاریخ کا اعلان
- 2 days ago

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف کاروباری شخصیت سے دوسری شادی کرلی
- 3 hours ago

پاکستان کے یومِ دفاع و شہداء کی مناسبت سے تھائی لینڈ میں تقریب کا انعقاد
- 2 days ago

کراچی: اسکول کی خستہ حال دیوارگرنے سے 5 افراد جاں بحق
- 3 days ago
پی ٹی آئی کے 24 ارکین اسمبلی بشمول سہیل آفریدی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
- an hour ago

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک جہان فانی سے کوچ فرماگئے
- 2 days ago

پاکستان کا یمن میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
- 3 days ago

پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت
- 2 days ago

27 ستمبر کی کال سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری, پی ٹی آئی رہنماوں کی شدید مذمت
- a day ago

ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب آج ہوگی، دلہا کون ہے؟
- 2 days ago
