وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ 2024-2023 پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات معیشت کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے ہیں


اسلام آباد: نئے مالی سال کا بجٹ 14 ہزار 460 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ 2024-2023 پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات معیشت کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے ہیں اور ان کا برآمدات میں نمایاں حصہ ہے، عالمی معیشت میں مسائل کی وجہ سے یہ شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہوا پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ یہ شعبہ آنے والے سالوں میں Engine of Growth ثابت ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنا کاروبار کرنے والے فری لانسرز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، ان کو در پیش مسائل کا حل اور عمومی طور پر اس شعبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کے لیے انکم ٹیکس 0.25 فیصد کی رعایتی شرح لاگو ہے اور یہ سہولت 30 جون 2026 تک جاری رکھی جائے گی، فری لانسرز کو ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا لہٰذا کاروباری ماحول میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے 24 ہزار ڈالر تک سالانہ کی برآمدات پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ اس کے علاوہ ان کے لیے ایک سادہ انکم ٹیکس ریٹرن کا اجرا کیا جارہا ہے، آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر بغیر کسی ٹیکس کے درآمد کر سکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالرز سالانہ مقرر کی گئی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ٹی خدمات اور ایکسپورٹرز کے لیے آٹومیٹڈ ایگزیمشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا اور IT شعبہ کو ایس ایم ایز کا درجہ دیا جارہا ہے جس سے اس شعبے کو انکم ٹیکس ریٹس کا فائدہ ملے گا۔
ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد کی حدود میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی ہے، اس کے علاوہ IT کے شعبے میں قرضہ جات کی فراہمی کو ترغیب کے لیے بینکوں کو اس شعبے میں 20 فیصد کے رعایتی ٹیکس کا استفادہ حاصل ہوگا، اگلے مالی سال میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو فنی تربیت دی جائے گی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیر اعظم
- 6 hours ago

ٹرمپ کی دھمکی:ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے
- 6 hours ago

آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی دھمکی
- 7 hours ago

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، پیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پر حملوں کی شدید مذمت
- 8 hours ago

سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا
- 6 hours ago

گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ’’ریاست اور سماج مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد
- 8 hours ago

پاکستان کی سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 9 hours ago

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 hours ago

استنبول: اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے تین افراد اجاں بحق، دو اہلکار زخمی
- 10 hours ago

کورکمانڈرزکانفرنس:سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 9 hours ago

جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں،ایرانی سفیر
- 10 hours ago

ایک کروڑ 40لاکھررضا کار وطن کےدفاع میں جانیں قربان کرنےکے لیےتیارہیں، ایرانی صدر
- 9 hours ago



.webp&w=3840&q=75)










