Advertisement
ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت دو دھاری تلوار ہے، چین

اس ٹیکنالوجی کو بےلگام گھوڑانہیں بننا چاہیے، سلامتی کونسل میں بحث کے دوران موقف

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jul 19th 2023, 3:24 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مصنوعی ذہانت دو دھاری تلوار ہے،  چین

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ پہلے اجلاس میں چین نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو بے لگام گھوڑا نہیں بننا چاہیے۔ جبکہ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ یہ لوگوں پر پابندی لگانے یا اُنہیں دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیوری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر بنیادی پہلو کو بدل دے گی۔انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور معیشتوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم یہ ٹیکنالوجی غلط معلومات کو ہوا دینے اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی ہتھیاروں کی تلاش میں معاونت کر سکتی ہے۔

15 رکنی کونسل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، ہائی پروفائل آرٹیفیشل انٹیلی جنس سٹارٹ اپ ’اینتھروپک‘ کے شریک بانی جیل کلارک اور چائنا یو کے ریسرچ سینٹر فار اے آئی ایتھکس اینڈ گورننس کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر زینگ یی نے بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے فوجی اور غیرفوجی شعبوں میں استعمال کے دونوں ہی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس غیرمعمولی ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے کچھ ریاستوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے ایک نئے ادارے کے قیام کے مطالبات کی حمایت کی۔اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مصنوعی ذہانت کو ’دو دھاری تلوار‘ قرار دیا اور کہا کہ چین مصنوعی زہانت کے لئے رہنما اصولوں کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی زہانت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اسے کس طرح منظم کرتا ہے اور ہم سائنسی ترقی کو سکیورٹی کے ساتھ کس طرح متوازن کرتے ہیں۔

Advertisement