Advertisement
ٹیکنالوجی

پاکستان میں جاسوسی کے لیے اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال ہورہا ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

اسپائے ویئر کروم یا سفاری براؤزر میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر فون کے اندر رسائی حاصل کرتا ہے اور پھر مکمل اسپائے ویئر انسٹال ہوجاتا ہے،رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 9 months ago پر Dec 6th 2025, 6:00 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان میں جاسوسی کے لیے اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال ہورہا ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

ویب ڈیسک:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک انتہائی حساس اور خطرناک اسرائیلی اسپائے ویئر استعمال ہورہا ہے۔ اس اسپائے ویئر کا نام ‘پریڈیٹر’ ہے، جسے اسرائیلی کمپنی ‘انٹیلیکسہ’ نے تیار کیا ہے،جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔

پاکستانی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق، یہ انکشاف ”انٹیلیکسہ لیکس“ نامی تحقیق میں سامنے آیا، جس میں بلوچستان کے ایک انسانی حقوق کے وکیل کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وکیل نے واٹس ایپ پر ایک مشکوک لنک موصول ہونے کے بعد 2025 کی گرمیوں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل سے رابطہ کیا تھا۔ ایمنسٹی سکیورٹی لیب نے اس لنک کی جانچ کی اور اسے پریڈیٹر اسپائے ویئر کے حملے کی کوشش قرار دیا۔ یہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا رپورٹ شدہ کیس تھا۔

تحقیق کے مطابق یہ اسپائے ویئر متاثرہ موبائل فون میں داخل ہونے کے لیے ”ون کلک“ تکنیک استعمال کرتا ہے۔ مشکوک لنک پر کلک کرنے کے بعد اسپائے ویئر کروم یا سفاری براؤزر میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر فون کے اندر رسائی حاصل کرتا ہے اور پھر مکمل اسپائے ویئر انسٹال ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد یہ فون کے اندر موجود ہر طرح کی معلومات جیسے واٹس ایپ، سگنل میسجز، آڈیو ریکارڈنگز، ای میلز، لوکیشن، اسکرین شاٹس، تصاویر، پاس ورڈز، کانٹیکٹس اور کال لاگز تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ اسپائے ویئر فون کے مائیک کو بھی خاموشی سے آن کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسپائے ویئر سے حاصل کی گئی معلومات پہلے ایک نیٹ ورک کے ذریعے مختلف انانومائزیشن سرورز سے گزرتی ہیں تاکہ اصل آپریٹر کی شناخت چھپی رہے، اور بعد ازاں یہ تمام ڈیٹا اس سرور تک پہنچتا ہے جو اس ملک میں موجود ہوتا ہے جہاں یہ اسپائے ویئر استعمال ہورہا ہو۔

Advertisement