اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ شرح سود کو 13.25 فیصد پر رکھنا غلطی تھی۔ پاکستان میں معیشت کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے، 20 سے 30 سال کیلئے پائیدار معاشی ترقی کیلئے مربوط نظام لایا جائے، پاکستان میں 3 سال بھی معیشت پائیدار نہیں رہتی ہے۔

فیض اللہ کموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا،وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے، معیشت کی بحالی اور استحکام کیلئے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، نئے ٹیکسز کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پالیسی نہیں، چائنا، ترکی اور بھارت نے معاشی پالیسیوں میں تسلسل رکھا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول، ہاوسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے،صرف اعشاریہ 25 فیصد ہاؤسنگ مارگیج ہے،ہاوسنگ سیکٹر کی بحالی سے 20 دوسری صنعتوں کا پہیہ چلے گا، صحت اور تعلیم کیلئے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے، تمام صوبوں کے محاصل کا 85 فیصد ملک کے 9 بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے،ڈیٹ مینجمنٹ کی ری پروفائلنگ کی ہے، حکومت جن اداروں کو نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کر دی جائے گی۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو کھری کھری سنا دی۔رمیش کمار نے کہا کہ شوکت عزیز سے اب تک جتنے وزیر خزانہ آئے معشیت کو استحکام نہ دلوا سکے، آپ کو معیشت کی بحالی کیلئے پلان بنانے ہوں گے۔جس پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آپ مجھے نہ بتائیں کہ کیا پلان بنانے ہیں،آپ نے شوکت عزیز سے لے اب تمام وزیر خزانہ کو لپیٹ دیا، آپ نے تمام وزرا میں مجھے بھی شامل کر دیا، میں نے آئی ایم ایف سے بہتر انداز میں مذاکرات کیے، اس وقت آئی ایم ایف سے پروگرام کرتے ہی 40 فیصد پیسے لے لیے تھے۔
شوکت ترین نے مزید کہا کہ شرح سود کو 13.25 فیصد پر رکھنا غلطی تھی، میں وزیر خزانہ رہا ہوں اور 10 سال میں مجھے ٹیکس کیلئے ہراساں کیا گیا ہے، میری دو دفعہ ڈیٹیل سکروٹنی کی گئی۔محصولات بڑھانے کیلئے کسی کی دم پر پاؤں نہیں رکھیں گے، پاکستان میں معیشت کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے، 20 سے 30 سال کیلئے پائیدار معاشی ترقی کیلئے مربوط نظام لایا جائے، پاکستان میں 3 سال بھی معیشت پائیدار نہیں رہتی، عوام کے طرز معاشرت کو بہتر بنانا ہوگا جن کو 70 سالوں سے محروم رکھا گیا ہے، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب والوں کا کیا قصور ہے؟۔

امریکا کو بڑا دھچکا:برطانیہ، فرانس،جرمنی، جاپان اور آسٹریلیا کا ٹرمپ کی اپیل پر جہاز بھیجنے سے انکار
- 10 hours ago

رحیم یار خان: امدادی رقم کی تقسیم کے دوران دکان کی چھت گر گئی ، 8 خواتین جاں بحق ،متعدد زخمی
- 12 hours ago

حکومت کا وفاقی ملازمین کیلئے بڑا اعلان، عید سے پہلے تنخواہیں دینے کی ہدایت
- 8 hours ago

وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سفارتی روابط کی اہمیت پر زور
- 8 hours ago

سونے کی قیمتوں میں چوتھے روز نمایاں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 14 hours ago

پی سی بی نے پی ایس ایل 11 کے ٹکٹس کی فروخت کا اعلان کردیا
- 9 hours ago

حکومت عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے،وزیر اعظم
- 10 hours ago

امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف حمایت پر ایرانی وزیر خارجہ کا اردو زبان پاکستان سے اظہارِ تشکر
- 14 hours ago

نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگر ملز کیس ختم کر دیا
- 9 hours ago

اسرائیل کی جارحیت جاری، جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن شروع، حزب اللہ سے شدید جھڑپیں
- 13 hours ago

طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جنوبی وزیرستان حملے کی جعلی ویڈیو پھیلانے کا انکشاف
- 13 hours ago
پاکستان کا اپنے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ ،سنئیرحکام کی تصدیق
- 7 hours ago















