اس لڑائی میں بہت سے بے گناہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، کملا ہیرس


امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے غزہ میں بہت زیادہ فلسطینی مارے جا رہے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مزید کوششیں کرے۔ انہوں نے جنگ کے بعد کے مرحلے میں غزہ کے لیے امریکی وژن کا خاکہ پیش کیا۔
اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP28) کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا اور 1200 اسرائیلیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
کملا ہیریس نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنا دفاع کر رہا ہے لیکن یہ اہم بات ہے کہ وہ یہ کس طریقے سے کر رہا ہے۔ اس سے متعلق امریکہ کا موقف واضح ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس لڑائی میں بہت سے بے گناہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
امریکہ اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جنوبی غزہ پر کسی بھی حملے کے دوران جنگی زون کو محدود رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ فلسطینیوں کے لیے محفوظ علاقے مختص کیے جا چکے ہیں۔ اس وقت جب اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اسے بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو غزہ میں قلیل اور طویل مدتی بحالی میں مدد کے لیے اہم وسائل مختص کرنے چاہییں۔ ہسپتالوں اور ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر نو، بجلی اور صاف پانی کی بحالی، بیکریاں کھولنے اور دوبارہ سٹاک کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔ فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو بالآخر غزہ میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مضبوط کیا جانا چاہیے۔ اس وقت تک ایسے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے جو اسرائیل، غزہ کے مکینوں، فلسطینی اتھارٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے قابل قبول ہوں۔
کملا ہیرس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی اس حد تک حمایت کی جائے جو اسے جنگ کے بعد مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے کے قابل بنا دے ۔ انہوں نے کہا حماس غزہ کی پٹی پر دوبارہ حکومت نہیں کر سکتی۔ ہم غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر حکومت کر رہی ہے۔ حماس نے 2007 میں تحریک فتح سے غزہ کی پٹی کا کنٹرول چھین لیا تھا۔
امریکی حکام نے فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی ہے تاکہ وہ اپنے کام کا دائرہ وسیع کر کے غزہ کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر سکے لیکن اس حوالے سے ابھی تک کسی پختہ منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

خیبرپختوانخوامیں آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام ونٹر انٹرنشپ پروگرام جاری
- 2 دن قبل

پنجگور: سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 3 خارجی دہشتگرد جہنم واصل
- 2 دن قبل

پاکستانی طالبہ نے ہاؤسٹن میں COPERNICUS VII میں فزکس اور ایسٹرونومی مقابلے میں سلور میڈل جیت لیا
- 10 گھنٹے قبل
وزیراعظم شہباز شریف کا جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ اور برآمدات بڑھانے پر زور
- 14 گھنٹے قبل

پاکستان نے اپنی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی، عالمی جریدہ
- 2 دن قبل
ایران کسی بھی فوجی جارحیت کا منہ توڑجواب دےگا: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
- 13 گھنٹے قبل

ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سےحکومت جو بھی فیصلہ کریگی،من و عن عمل کریں گے،محسن نقوی
- 2 دن قبل
وفاقی وزیر داخلہ نے جدید ترین مانیٹرنگ نظام ”شکرا“ کا افتتاح کر دیا
- 10 گھنٹے قبل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
- 13 گھنٹے قبل

اگر وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، سہیل آفریدی
- 2 دن قبل

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- 14 گھنٹے قبل

ٹرمپ کا منی سوٹا کے گورنر اور میئر پرلوگوںکو بغاوت کے لیے بھڑکانے کا الزام
- 2 دن قبل











