Advertisement
پاکستان

انتخابی نشان،چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور قانون کے مطابق ہوں، چیف جسٹس

3 دن تک اگر کیس کو ملتوی کرنا ہے تو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنا پڑے گا، قاضی فائز عیسی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 12th 2024, 8:05 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
انتخابی نشان،چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور قانون کے مطابق ہوں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 3 دن تک اگر کیس کو ملتوی کرنا ہے تو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنا پڑے گا۔ چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور قانون کے مطابق ہوں

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ پی ٹی آئی کو بلے کے نشان سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے آغاز  پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیا پشاور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آگیا ہے؟ حامد خان نے بتایا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں پڑھ کر سنایا۔

وکیل حامد خان نے کہا مجھے تیاری کے لیے پیر تک وقت دیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا 3 دن تک اگرکیس کو ملتوی کرنا ہے تو پھرپشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا ہوگا، ہم تو کل اور پرسوں کام کرنے کے لیے تیار ہیں، ہفتے اور اتوار کی چھٹی قربان کرکے انتخابات کے کیسز سن سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور قانون کے مطابق ہوں، معلوم ہے کہ اب انتخابات میں وقت کم ہے۔ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، حامد خان آپ مقدمے کیلئے کب تیار ہوں گے؟ 

وکیل الیکشن کمیشن مخدوم علی خان نے کہا کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں جبکہ حامد خان نے کہا اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں، الیکشن کمیشن بتائے وہ کس طرح اپیل داخل کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن ایک جزوی عدالتی فورم ہے ان کا حق دعویٰ نہیں بنتا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ بھی ہے، اگرآپ الیکشن کمیشن کی اپیل کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھائیں گے تویہی سوال آپ پر آئے گا، آپ پربھی سوال آئے گا کہ آپ پشاور ہائیکورٹ میں کیسے چلے گئے؟

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات2017 میں ہوئے تھے، پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی، الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پرپی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنرکی تعیناتی کا طریقہ کارکہاں درج ہے؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا پہلے جمال انصاری بعد میں نیازاللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنربنے۔

چیف جسٹس نے پوچھا پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبرتعینات نہیں تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کیا یہ بات درست ہے؟ جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟ حامد خان نے کہا کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لیے مانگا تھا۔

حامد خان نے کہا الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پربھی دلائل دوں گا، مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں، ایک فریق پارٹی جو الیکشن کمیشن کے آرڈر سے متاثرہ ہے اس کا حق دعویٰ توبنتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، یہاں روزکلیکٹر اپنے آرڈرزکے دفاع کیلئے  آتا ہے، اس پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، آپ کے پاس اعتراضات کرنے کا بالکل حق موجود ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ابھی تک یہ بات سمجھ آئی ہےکہ پارٹی نے اپنے ہی آئین کے تحت الیکشن نہیں کرایا، حامد خان صاحب،آپ دستاویزات داخل کرنا چاہتے ضرور کریں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت الیکشن کمیشن کا ریکارڈ منگوالے توہم وہ بھی منگوا لیتے ہیں۔

حامد خان نے کہا عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہو سکتے،آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا، کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا ہو؟

وکیل پی ٹی آئی حامد خان نے کہا الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی،الیکشن کمیشن کے کام میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کرے گی، ایک بار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ آگے کرنے لگے، میں نے جسٹس جواد ایس خواجہ سے کہا میں اختلافی نوٹ لکھوں گا، میں نے واضح کہا تھا کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کاکام ہے، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے میری بات سے اتفاق کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس کے کام میں کوئی ادارہ مداخلت نہیں کرسکتا، اگرالیکشن کمیشن کوئی غیرآئینی کام کرے تو پھر معاملہ دیکھا جاسکتا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں، پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟ جس پر حامد خان نے کہا عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا پی ٹی آئی خود ہائیکورٹ گئی تھی، انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل رکارڈ منگوا لیتے ہیں، یہ مختلف افراد کو کیوں فریق بنایا گیا ہے؟ 

الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا جن افراد نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کیا انہیں فریق بنایا گیا ہے، اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن اور حصہ ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاؤنڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟

جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاؤنڈنگ ممبر ہے کون نہیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاؤنڈنگ ممبر نہیں ؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ جی میں پارٹی کا فاؤنڈنگ ممبر ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہے، اجلاس کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع کریں گے، سپریم کورٹ نے سماعت ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آئے، انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سوال پوچھا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں۔

چیف فائز عیسیٰ نے دوبارہ سوال پوچھا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکرٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ جس پر تحریک انصاف کے وکلا نے جواب دیا کہ چمکنی کے گراؤنڈ میں ہوئے تھے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہوں گے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے سوال پوچھا کہ چھوٹے سے گمنام گاؤں میں انتخابات کیوں کرائے؟

چیف جسٹس نے ایک بار پھر سوال کیا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا، پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟ پی ٹی آئی وکلاء جواب نہیں دینا چاہتے تو کیس کو آگے بڑھاتے ہیں، پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چاہیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے مؤقف اپنایا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی تھے، ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں۔

عدالت نے نیاز اللہ نیازی کو دلائل دینے سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آپ وکیل نہیں فریق ہیں، حامد خان سینئر وکیل ہیں ان سے اجازت لے کر بات کریں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ 2 دسمبر سے پہلے پی ٹی آئی کے انتخابات کب ہوئے تھے؟

جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ انتخابات 8 جون 2022 کو ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے جون 2022 میں ہونے والے انتخابات کالعدم قرار دیئے تھے۔

Advertisement
سڈنی دہشتگردانہ حملہ: عالمی سطح پر بھارتی دہشتگردی سے متعلق الزامات میں اضافہ،پاکستانی مؤقف کی تائید

سڈنی دہشتگردانہ حملہ: عالمی سطح پر بھارتی دہشتگردی سے متعلق الزامات میں اضافہ،پاکستانی مؤقف کی تائید

  • 14 گھنٹے قبل
وزیراعلیٰ مریم نواز نے بےگھر صنعتی ورکرز کیلئے نئے تعمیر شدہ 720 فلیٹس کی قرعہ اندازی کر دی

وزیراعلیٰ مریم نواز نے بےگھر صنعتی ورکرز کیلئے نئے تعمیر شدہ 720 فلیٹس کی قرعہ اندازی کر دی

  • 10 گھنٹے قبل
سڈنی حملہ آور ساجداکرم کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد سے تھا، بھارتی میڈیا خود حقائق سامنے لے آیا

سڈنی حملہ آور ساجداکرم کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد سے تھا، بھارتی میڈیا خود حقائق سامنے لے آیا

  • 13 گھنٹے قبل
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور وٹو انتقال کر گئے

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور وٹو انتقال کر گئے

  • 15 گھنٹے قبل
مسیحی برادری کی موجیں، صوبائی حکومت نےکرسمس پر اضافی چھٹی کا اعلان کر دیا

مسیحی برادری کی موجیں، صوبائی حکومت نےکرسمس پر اضافی چھٹی کا اعلان کر دیا

  • 8 گھنٹے قبل
ملک کے مختلف شہروں میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابرآلود رہے گا،محکمہ موسمیات

ملک کے مختلف شہروں میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابرآلود رہے گا،محکمہ موسمیات

  • 14 گھنٹے قبل
دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے، ہر قسم کی معاونت روکنے کیلئے ٹھوس عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،دفتر خارجہ

دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے، ہر قسم کی معاونت روکنے کیلئے ٹھوس عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،دفتر خارجہ

  • 13 گھنٹے قبل
پی ایس ایل 11 میں کتنے میچز ہونگے اور کہاں کہاں کھیلے جائیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

پی ایس ایل 11 میں کتنے میچز ہونگے اور کہاں کہاں کھیلے جائیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  • 14 گھنٹے قبل
سانحہ آرمی پبلک اسکول کو 11 سال کا عرصہ بیت گیامگر والدین کا غم آج بھی تازہ

سانحہ آرمی پبلک اسکول کو 11 سال کا عرصہ بیت گیامگر والدین کا غم آج بھی تازہ

  • 15 گھنٹے قبل
گزشتہ روز کے ضافے کے بعد سونا آج ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

گزشتہ روز کے ضافے کے بعد سونا آج ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 15 گھنٹے قبل
انڈر19 ایشیا کپ: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 70 رنز سے شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

انڈر19 ایشیا کپ: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 70 رنز سے شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

  • 9 گھنٹے قبل
سڈنی واقعہ : حملہ آور باپ نے بھارتی اور بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا، حکام کی تصدیق

سڈنی واقعہ : حملہ آور باپ نے بھارتی اور بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا، حکام کی تصدیق

  • 14 گھنٹے قبل
Advertisement