Advertisement

سائنسدانو ں نے کینسر کی نشو ونما میں معاون ثابت ہونے والے عام مدافعتی خلیے کا سراغ لگا لیا

’ٹی تھری‘ خلیے خون کی نئی نالیوں کی نشوونما کو فروغ دے کر جسم کے “غدار”بن جاتے ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 12th 2024, 7:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سائنسدانو ں نے کینسر کی نشو ونما میں معاون ثابت ہونے والے عام مدافعتی خلیے کا سراغ لگا لیا

بیجنگ ۔12جنوری (اے پی پی):چینی اور سنگاپور کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ عام مدافعتی خلیے کی ایک قسم کینسر کی نشو ونما میں معاون بن سکتی ہے، اور اس لیے اسے ممکنہ انسداد کینسر تھراپی میں نشانہ بنانا مفید ہو سکتا ہے۔

جرنل’’سائنس ‘‘میں جمعہ کو شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، نیوٹروفیل، جسم میں سفید خون کے خلیات کی سب سے زیادہ وافر تعداد ہے اور جو انفیکشن اور چوٹ کے لیے سب سے پہلے جواب دہندگان کے طور پر کام کرتے ہیں اور ٹیومر کے گرد جمع ہوتے ہیں، اور یہی ٹیومر کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایک تجرباتی لبلبے کے کینسر کے ماؤس ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے، شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن اور سنگاپور امیونولوجی نیٹ ورک کے تحت رینجی ہسپتال کے محققین نے پایا کہ جب ٹیومر میں گھس جاتا ہے تو نیوٹروفیلز ’ٹی تھری‘ نامی طویل المدت سیل’ سب سیٹ‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہ ’ٹی تھری‘ خلیے خون کی نئی نالیوں کی نشوونما کو فروغ دے کر جسم کے “غدار”بن جاتے ہیں، جو کم آکسیجن اور محدود غذائی اجزاء والے علاقوں میں ٹیومر کو زندہ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ مطالعہ کے مطابق، ’ٹی تھری‘ خلیوں کو ختم کرنا یا ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ٹیومر کی نشوونما کو روک سکتا ہے۔

Advertisement
Advertisement