جاپانی عدالت کے جج کا کہنا ہے کہ مشہور کیوٹو اینیمیشن پر 45 سالہ شنجی اوبا کے حملے نے فوری طور پر اسٹوڈیو کو جہنم میں تبدیل کر دیا


قطری خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان کی عدالت نے 2019 میں کیوٹو اینیمیشن اسٹوڈیو میں آتشزنی کے حملے میں 36 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں ایک شخص کو سزائے موت سنائی ہے۔
جج کا کہنا ہے کہ مشہور کیوٹو اینیمیشن پر 45 سالہ شنجی اوبا کے حملے نے فوری طور پر اسٹوڈیو کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔
کیوٹو ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے 45 سالہ شنجی اوبا کو اسی سال 18 جولائی کو کیوٹو اینیمیشن کے اسٹوڈیو 1 پر حملے میں قتل، آتش زنی اور دیگر جرائم کی سزا کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر اہل پایا تھا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اوبا کو اسٹوڈیو کے خلاف بغض تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے سالانہ مقابلے میں ان کے ناولوں کو مسترد کرنے کے بعد ان کے خیالات چوری کیے تھے۔

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 4 دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 2 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 3 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 2 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 2 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 2 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 4 دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- ایک دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 2 دن قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 2 دن قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 2 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 4 دن قبل


