رشید اے رضوی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر تھے اس کے علاوہ چار بار سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں


معروف قانون دان اور جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی کراچی میں انتقال کرگئے ، رشید اے رضوی کچھ عرصے سے علیل تھے اور نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
وکلا برداری کا کہنا ہے کہ سینئر وکیل رشید اے رضوی کی جوڈیشری کے لئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وکلا برادری ، سیاسی قائدین اور سول سوسائیٹی کی جانب سے رشید اے رضوی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اور مرحوم کے لواحقینن سے تعزیت کرنے کے ساتھ دعائے مغفرت بھی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ رشید اے رضوی سندھ ہائی کورٹ کے جج رہے چکے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر تھے اس کے علاوہ چار بار سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رشید اے رضوی 18 دسمبر 1947ء کو بمبئی (ممبئی) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان 1956 میں بمبئی سے ہجرت کر کے کراچی آ گیا تھا۔
رشید اے رضوی پاکستان کے ان چند سینئر وکلاء میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے قانونی کیریئر کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں غریب اور پسماندہ طبقات بالخصوص محنت کش طبقے کو اپنی قانونی خدمات فراہم کرنے کے لئے وقف کیا۔
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 4 hours ago

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کا دفاع ہے: طاہراشرفی
- a day ago
ملک میں یومِ تکریمِ شہداء پر خطباتِ جمعہ میں قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت
- 4 hours ago
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب میں جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 4 hours ago

2027 میں 5 ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیےپاکستان انگلینڈ کا دورہ کرے گا
- a day ago

بچوں کے پسندیدہ ڈرامہ 'عینک والا جن' کی نئے انداز میں واپسی
- a day ago
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 3 hours ago

لاہور: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم
- 4 hours ago
پاکستان میں موبائل ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں ایک سال میں کتنا اضافہ کیا گیا؟
- a day ago
لاہور: آوارہ کتوں کا دو کم سن بچوں پر حملہ، دونوں شدید زخمی
- a day ago

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- an hour ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- an hour ago



