دن کے منانے کا بنیادی مقصد مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ،بیماری کی روک تھام، پتہ لگانے اور علاج کی حوصلہ افزائی کرنا ہے


پاکستان سمیت دنیا بھر میں 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ،بیماری کی روک تھام، پتہ لگانے اور علاج کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
رواں سال اس دن کا موضوع ’’نگہداشت کے فرق کو بند کریں، ہر کوئی کینسر کی دیکھ بھال تک رسائی کا مستحق ہے‘‘ منتخب کیا گیا، جو 2022 سے 2024 تک کینسر سے بچائو کی تین سالہ طویل مہم کا حصہ ہے۔ مہم میں کینسر کا پتہ لگانے، علاج اور معاون خدمات میں تفاوت کو دور کرنے کے لیے عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔کینسر کے عالمی دن کے موقع پر دنیا ملک بھر میں سرکاری اور طبی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا گیا تاکہ عام آدمی کو کینسر کے مرض، اس کی تشخیص اور علاج کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی جا سکے۔
Today is #WorldCancerDay.
— World Health Organization (WHO) (@WHO) February 3, 2024
We look at the global cancer burden (2022 estimates):
? 20 million new cases
? 9.7 million lives lost
? 53.5 million survivors within 5 years after diagnosis #CloseTheCareGap
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک شخص میں زندگی میں کبھی نہ کبھی کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب کہ ہر 9 میں سے ایک مرد اور ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت کا سبب کینسر ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2022 میں 2 کروڑ افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور 97 لاکھ افراد کینسر سے زندگی کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے 25 سال یعنی 2050 تک کینسر کے مریضوں کے کیسز کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔ اس وقت بھی کینسر میں مبتلا 6 کروڑ افراد ایسے ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے موذی مرض سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 185 ممالک میں کی گئی تحقیق اور سروے سے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 36 اقسام کے کینسر پھیل رہے ہیں جو سالانہ 2 کروڑ یا اس سے زائد افراد کو متاثر کر رہے ہیں۔
دنیا بھر کے ممالک میں کینسر کے علاج کے ناقص یا نامکمل انتظامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف 39 فیصد ممالک ایسے ہیں جو کینسر کے پرائمری علاج کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔رپورٹ میں کینسر کو عالمی معیشت پر بھاری وزن قرار دیتے ہوئے خبردار دیا کیا گیا ہے کہ 2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد 3.5کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، یعنی 2022 کے مقابلے کیسز دگنے ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک مرد جب کہ ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت کینسر کے باعث ہوتی ہے۔
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- a day ago
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 2 days ago
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 3 hours ago

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 5 hours ago
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 9 hours ago

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 2 days ago

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 9 hours ago
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 4 hours ago

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 3 hours ago

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 2 days ago
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 8 hours ago

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 2 days ago








