جی این این سوشل

صحت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا گیا

دن کے منانے کا بنیادی مقصد مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ،بیماری کی روک تھام، پتہ لگانے اور علاج کی حوصلہ افزائی کرنا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا گیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ،بیماری کی روک تھام، پتہ لگانے اور علاج کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

رواں سال اس دن کا موضوع ’’نگہداشت کے فرق کو بند کریں، ہر کوئی کینسر کی دیکھ بھال تک رسائی کا مستحق ہے‘‘ منتخب کیا گیا، جو 2022 سے 2024 تک کینسر سے بچائو کی تین سالہ طویل مہم کا حصہ ہے۔ مہم میں کینسر کا پتہ لگانے، علاج اور معاون خدمات میں تفاوت کو دور کرنے کے لیے عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔کینسر کے عالمی دن کے موقع پر دنیا ملک بھر میں سرکاری اور طبی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا گیا تاکہ عام آدمی کو کینسر کے مرض، اس کی تشخیص اور علاج کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی جا سکے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک شخص میں زندگی میں کبھی نہ کبھی کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب کہ ہر 9 میں سے ایک مرد اور ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت کا سبب کینسر ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2022 میں 2 کروڑ افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور 97 لاکھ افراد کینسر سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے 25 سال یعنی 2050 تک کینسر کے مریضوں کے کیسز کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔ اس وقت بھی کینسر میں مبتلا 6 کروڑ افراد ایسے ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے موذی مرض سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 185 ممالک میں کی گئی تحقیق اور سروے سے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 36 اقسام کے کینسر پھیل رہے ہیں جو سالانہ 2 کروڑ یا اس سے زائد افراد کو متاثر کر رہے ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک میں کینسر کے علاج کے ناقص یا نامکمل انتظامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف 39 فیصد ممالک ایسے ہیں جو کینسر کے پرائمری علاج کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔رپورٹ میں کینسر کو عالمی معیشت پر بھاری وزن قرار دیتے ہوئے خبردار دیا کیا گیا ہے کہ 2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد 3.5کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، یعنی 2022 کے مقابلے کیسز دگنے ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک مرد جب کہ ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت کینسر کے باعث ہوتی ہے۔

 

پاکستان

اسمگلنگ کے خاتمے تک معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، وزیراعظم

وزیراعظم نے شہید ہونے والے کسٹمز انسپکٹر کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمگلنگ کے خاتمے تک معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسمگلنگ کے خاتمے تک معیشت مستحکم  نہیں ہو سکتی۔ اسمگلنگ کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آبادمیں میٹنگز بھی کی ہیں۔
وزیراعظم نے ایبٹ آباد میں کسٹمز حکام پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونیوالے کسٹمز انسپکٹر حسنین ترمذی کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید کے والد کے صبر پر پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ یقین دلاتے ہیں کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کسٹم انسپکٹر نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ 
شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے پوری طرح یکسو ہے۔ اسمگلنگ کیخلاف کسی بھی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں آرمی چیف کی معاونت پر شکر گزار ہوں، شہید انسپکٹر حسنین ترمذی پر فخر ہے، ڈی آئی خان واقعات میں 8 شہادتیں ہوئیں، عظیم سپوت جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پنجاب کے بعد وفاق میں بھی شہداء پیکیج کا آغاز کررہے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت

میڈیکل اسٹورز میں انسولین سمیت 27 ضروری ادویات دستیاب نہیں ہیں، ڈرگ انسپکٹر سندھ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے، میڈیکل اسٹورز میں انسولین سمیت 27 ضروری ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

ڈرگ انسپکٹر سندھ نے بتایا کہ کراچی کے میڈیکل اسٹورز پر انسولین سمیت 27 اہم ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

سیکریٹری پراونشل ڈرگ کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ سید عدنان رضوی نے خط لکھ کر پورے صوبے کے ڈرگ انسپکٹرز کو غیر دستیاب ادویات کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں بھی 30 اہم ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

حکام نے بتایا کہ عدم  دستیاب ادویات میں اینٹی بائیوٹکس، نفسیاتی اور دمہ کی دوائیں شامل ہیں جبکہ تشنج کے انجیکشن اور مختلف قسم کے انہیلر کی بھی شدید قلت ہے۔

دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ادویات کی کوئی کمی نہیں، سپلائی چین کے مسائل ہوسکتے ہیں۔

ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہفتہ وار بنیادوں پر ادویات کی دستیابی کا سروے کرتے ہیں، مریض کو انسولین وافر مقدار میں دستیاب ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو گرفتاری سے بھی روک دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

 جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیر افضل مروت کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے شیر افضل مروت کی دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو گرفتاری سے بھی روک دیا۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ شیر افضل مروت صاحب کوئی علاقہ چھوڑا ہے جہاں آپ پر پرچہ نہیں ہوا، جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ مائی لارڈ پورے ملک میں پرچے ہو رہے ہیں۔

عدالت نے شیر افضل مروت سے استفسار کیا کہ یہ قصور میں پرچہ درج ہوا تھا جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ جی قصور میں جلسہ کیا تھا تو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا تھا۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کی 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور انہیں دو ہفتوں میں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll