اب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سےآزاد امیدواران 95 نشستیں لے کر پہلے جبکہ مسلم لیگ ن 67 نشستیں لے کر دوسرے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی 52 نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر ہے


ملک پاکستان میں 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا عمل ہوا ، الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک مقرر کیا گیا ، پاکستان کے مختلف شہروں سے پاکستان کے عوام نے اپنا حق رائے دہی اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا ، میڈیا ذرائع کے مطابق شام 5 بجے تک ملک کے ہر پولنگ اسٹیشن سے ماسوائے کسی ایک دو کے کوئی نا خوشگوار واقعات کی خبریں موصول نہیں ہوئیں ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق انتخابات کے نتائج کا وقت رات 8 بجے تک مقرر کیا تھا ، شام 6 بجے کے بعد چند پولنگ سٹیشنز سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے سامنے آنا شروع ہوئے جہاں گنتی کا عمل مکمل ہو گیا تھا۔
سوشل میڈیا ٹرینڈز اور پاکستانی میڈیا کے مطابق ابتدائی نتائج میں آزاد امید وار بھاری اکثریت سے جیت کی جانب گامزن تھے ، جن میں این اے 71 ریحانہ ڈار بمقابلہ رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف اور این اے 130 نواز شریف بمقابلہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ خاتون امید وار یاسمین راشد مد مقابل تھیں ، ان حلقوں کے حیران کن نتائج نے سب کو حیران کر دیا تھا کیونکہ آزاد امید وار بھاری اکثریت سے جیت کی جانب گامزن تھے ، تاہم چند ہی گھنٹوں میں رزلٹ کی آمد کا سلسلہ رک گیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج میں تاخیر نے پاکستان کے عوام میں ایک نئی بحث اور شکوک و شبہات کو جنم دے دیا تھا ۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے تاخیر کے باعث چند حلقوں میں سیاسی امید واروں نے اپنی خود ساختہ جیت کا اعلان کردیا تھا ، لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے مسلم لیگ ن کی جانب سے سوشل میڈیا پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا جا رہا تھا مسلم لیگ ن کی جانب سے کسی بھی خوشخبری کا اعلان نہیں کیا جا رہا تھا ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ماسوائے ایک دو کے مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔
تاہم جمعہ کی صبح کا سورج مسلم لیگ ن کیلئے چند خوشخبریاں لے کر طلوع ہوا ، جس میں قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف این اے 130 سے کامیاب ہو چکے تھے ، علاوہ ازیں این اے 71 کے حیران کن نتائج نے پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا ، این اے 71 سے ریحانہ ڈار کے بجائے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کامیاب ہو گئے ۔
اب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سےآزاد امیدواران 95 نشستیں لے کر پہلے جبکہ مسلم لیگ ن 67 نشستیں لے کر دوسرے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی 52 نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر ہے ۔
یاد رہے کہ کوئی بھی سیاست جماعت وفاقی حکومت بنا سکتی ہے لیکن جس کے پاس سادہ اکثریت یعنی کم سے کم قومی اسمبلی کی 134 سیٹیں ہوں گی اور اسی پولیٹیکل پارٹی کو حکومت بنانے کیلئےمجموعی طور پر 169 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔
اس سیاسی جماعت کو 134 جنرل نشستوں پر اقلیتوں اورخواتین کی 35 سیٹیں ملیں گی، جس کے بعد وہ حکومت بنا سکے گی۔ قومی اسمبلی کی عمومی سیٹیں266 ہیں جبکہ اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص سیٹیں شامل کرکے کل نشستیں 336 بنتی ہیں۔
کیا اب تک کے نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی وفاق میں حکومت بنانے کی اہلیت رکھتی ہے یقینن نہیں ، تاہم دونوں پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بشمول آزاد امیدواران کو حکومت بنانے کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت ضروری ہے ۔
تاہم اب سوالات یہ جنم لیتے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن سے اتحاد کرے گی ؟ اب تک کے منظرنامے کے مطابق پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن سے اتحاد کی خواہاں نہیں ہے تو کیا کوئی اور پارٹی اقتدار میں ہے جس کے ساتھ مل کر مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی حکومت بنا سکے گی یقینن نہیں تو حکومت بنانے کے اس غیر معمولی عمل میں آزاد امیدوار نہایت اہمیت کے حامل ہیں ، پاکستان کے 95 حلقوں سے منتخب ہونے والے امید وار پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں ، بانی پی ٹی آئی جو کہ مختلف کیسز میں سزا یافتہ ہیں اور ان دنوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں آزاد امیدوار پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہونے کی بنا پر بھاری اکثریت سے عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو حکومت بنانے میں ترپ کے آخری پتے کی حیثیت رکھتے ہیں ان سے حکومت بنانے کیلئے رابطہ کرنا ہوگا کیونکہ حکومت بنانے کیلئے پی ٹی آئی ایک بڑا بیس ہے ۔
کیا بانی پی ٹی آئی وفاق میں حکومت بنانے کیلئے پیپلزپارٹی سے اتحاد کریں گے یا مسلم لیگ ن سے یہ بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے لیکن پیپلزپارٹی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواران کو نہایت اہم سمجھتے ہیں اور ان سے مل کر حکومت بنانا چاہتے ہیں ۔

آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے کمنڑی پینل کا اعلان کر دیا،پاکستان سے 4 نام شامل
- 10 hours ago

بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے پیش نظر کا ایران کا طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ
- 11 hours ago

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں پیشرفت، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے نجی شعبہ معاہدوں پر عملدرآمد اہم قرار
- 5 hours ago

مریم نواز نے کل لبرٹی میں ہونے والے بسنت کی تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا
- 3 hours ago

لاہور:دودہائیوں بعد بسنت کی واپسی،ہر طرف بو کاٹا کی صدائیں،مریم نواز کی ایس اوپیز پر عمل کرنے کی ہدایات
- 11 hours ago

بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاںاثرات، بدنام زمانہ دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال دئیے
- 5 hours ago

کور کمانڈر ملتان کی غازی یونیورسٹی،ڈی جی خان میڈیکل کالج اور میر چاکر یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
- 11 hours ago

امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث بمبار کی شناخت ہو گئی،ذرائع
- 4 hours ago

امریکا، برطانیہ، ایران اور آسٹریلیا کی اسلام آباد میں خودکش دھماکے کی مذمت
- 4 hours ago

ضلعی انتظامیہ نے 7 فروری کو ایک اور تعطیل کا اعلان کر دیا
- 11 hours ago

پرائیڈ آف پرفارمنس آرٹسٹ عماد صمدانی لاہور میں انتقال کرگئے
- 5 hours ago

اسلام آباد: امام بارگاہ کے باہر خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید، 169 زخمی،وزیراعظم، صدر اظہارافسوس
- 5 hours ago






