الیکشن کمیشن کے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کو مسترد کرتے ہیں، سربراہ جے یو آئی


سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، لگتا ہے کہ اب فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں میدان میں ہوں گے۔ 2024 کے انتخابات نے 2018 کی دھاندلی کے ریکارڈ بھی توڑ دیئے۔ الیکشن کمیشن کے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کو مسترد کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ جےیوآئی نے انتخابی نتائج مسترد کردیئے، دھاندلی نے 2018 کی دھاندلی کا ریکارڈ بھی توڑدیا، ہماری نظر میں پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ جمعیت پارلیمانی سیاست سےمکمل طور پر دستبردار ہوتی ہے، ہم سڑکوں پر رہ کرعوام کا مقدمہ لڑیں گے۔
انھوں نے کہا کہ جے یوآئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی، پارٹی کی شکست سازش کےتحت کی گئی۔ن لیگ کو بھی اپوزیشن میں بیٹھنےکی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنےکی دعوت دیتا ہوں۔ جےیوآئی نےاسرائیل کی مخالفت کی اورحماس کی حمایت کی، جےیوآئی ایک نظریاتی قوت ہے، ہم کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی قوتوں کی ایما پر جےیوآئی کو شکست سے دوچار کیا گیا۔اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہےکہ الیکشن درست ہے تو قوم نےغداروں کو ووٹ دیا ہے۔الیکشن کمیشن ہمارے لوگوں کی درخواستوں کی سماعت نہیں کررہا، الیکشن کمیشن کا کردار روز اول سے مشکوک رہا ہے۔ اپنےمقاصد کےحصول کیلئےملک میں تحریک چلائیں گے، 22 فروری کو اسلام آباد جنرل کونسل، 25 فروری بلوچستان میں صوبائی جنرل کونسل، 27 کو خیبرپختونخوا پشاور، 3 مارچ کو کراچی میں جنرل کونسل اور پانچ مارچ کو لاہور میں جنرل کونسل کا اجلاس ہوگا۔
فضل الرحمان نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے لیکن کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔ مسلح گروپوں کا ہولڈ تھا، جہاں ان کا ہولڈ تھا وہاں پولیس کو اٹھا لیا گیا، چار پانچ دیہات سے پولیس کو اٹھایا گیا، تین روز تک یرغمال رکھا گیا، دھمکیاں دی گئیں کہ اگر جمعیت کے لوگوں کو قتل کریں گے اگر وہ پولنگ اسٹیشن پر آئے، اس قسم کے حالات میں ہم نے الیکشن میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ذرا کچھ اور تیور کے ساتھ فیصلے کیے ہیں آپ نارمل انداز میں سوال کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے حکومت سازی کے حوالے سے کوئی اجازت نہیں دی، جنرل کونسل سے بات کریں گے۔
کیا افغانستان کا دورہ آپ کے خلاف کیا، اس حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تبصرے یہی آ رہے ہیں کہ بین الاقوامی طور پر اسے جرم قرار دیا گیا ہے۔ شہباز شریف کو ووٹ دینے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کے اتحادی نہیں ہیں۔ انہوں نے ہماری بات نہیں سنی۔

اسحاق ڈار کا کینڈین وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں امن اور استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 7 minutes ago

ٹرمپ یا کسی اور کو حق نہیں کہ وہ ایران کو پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے،صدر پزشکیان
- 10 minutes ago

ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا ،باقر قالیباف
- 10 hours ago

ٹرمپ نے نیتن یاہو کے کہنے پر امریکی فوجیوں کو جنگ میں دھکیلا،کملا ہیرس کا الزام
- 10 hours ago

ایران سے مذاکرات کیلئے امریکی نمائندے کل اسلام آباد پہنچیں گے،صدر ٹرمپ
- 36 minutes ago

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے امتحانات ملتوی، کلاسز آن لائن ہونگی
- 10 hours ago

سمارٹ لاک ڈاون کے باعث لاہور کے تھیٹرز کے اوقات کار تبدیل کر دئیے گئے
- 31 minutes ago

اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 22 minutes ago

وزیر مملکت برائے خزانہ نے ڈیزل کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی کا عندیہ دے دیا
- 10 hours ago

جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا،ایران
- 10 hours ago

کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئےخیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں الرٹ جاری
- 10 hours ago
ننگرہار سے آواز: افغان شہری کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مدد کی اپیل، ویڈیو وائرل
- 2 hours ago












