Advertisement

رفح پر اسرائیل کا کوئی بڑا زمینی حملہ " ایک غلطی" ہو گا ، امریکی وزیر خارجہ

حماس سے نمٹنے کے لیے فوجی آپریشن کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں،انٹونی بلنکن

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 22nd 2024, 4:42 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
رفح پر اسرائیل کا کوئی بڑا زمینی حملہ " ایک غلطی" ہو گا ، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید خرابی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ  رفح پر اسرائیل کا کوئی بڑا زمینی حملہ " ایک غلطی" ہو گا،  امریکا اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پانچ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے جس میں غزہ جنگ اور رفاہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلنکن نے کہا "رفح میں کوئی بڑا فوجی آپریشن ایک غلطی ہو گی، جس کی ہم حمایت نہیں کرتے۔ اور، حماس سے نمٹنے کے لیے بھی یہ(حملہ) ضروری نہیں ہے۔" تاہم انہوں نے اس پر زور دیا کہ حماس سے نمٹنا ضروری ہے۔ حماس سے نمٹنے کے لیے فوجی آپریشن کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں، رفاہ میں فوجی آپریشن سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بڑی کارروائی کا مطلب مزید عام شہریوں کی ہلاکت اور غزہ کے انسانی بحران کو بدترین کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ جمعہ کو اسرائیل میں رفح پر، اور اگلے ہفتے واشنگٹن میں متبادل کارروائی پر بات چیت ہو گی۔

بلنکن نے کہا کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ "فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے اور ان بالواسطہ مذاکرات سے خلیج کم ہو رہی ہے جن میں امریکہ، مصر اور قطرنے ثالثی کے لیے ہفتوں گزارے ہیں۔

بلنکن، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ سے ملاقات کے لیے جمعہ کو اسرائیل جا رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور صدر جو بائیڈن کے درمیان جنگ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات ممکنہ طور پر ان کی بات چیت پر غالب رہیں گے، اور خاص طور پر نیتن یاہو کے رفح پر زمینی حملہ کرنے کے عزم پر، جہاں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے تباہ کن اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں سے پناہ حاصل کی ہے۔

Advertisement