Advertisement

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اسرائیل اور حماس سے جنگ بندی پر اتفاق کرنے کی اپیل

رفح اور کیریم شالوم کے سرحدی راستے بند کیے جانے سے تباہ کن انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں، انتونیو

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 8th 2024, 3:14 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اسرائیل اور حماس سے جنگ بندی پر اتفاق کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور حماس سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ میں جنگ کو روک دیں۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ رفح اور کیریم شالوم کے سرحدی راستے بند کیے جانے سے تباہ کن انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔اسرائیل یہ دونوں راستے فوری طور پر کھولے اور سفارتی بات چیت میں تعمیری طور پر شرکت کرے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر (نیویارک) میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں میں1001 سے زیادہ اور غزہ پر اسرائیل کی عسکری کارروائیوں میں 34ہزار ہلاکتوں کے بعد مزید کتنی تباہی دیکھنا ہو گی؟

سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے غزہ میں امداد کی ترسیل بند ہو گئی ہے اور ذخیرہ شدہ امدادی سامان اور ایندھن تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ علاقے میں صرف ایک دن کی ضروریات کا سامان موجود ہے۔

انتونیو گوتریس نے اسرائیلی حکومت اور حماس کی قیادت میں معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں اور ان کے خاندانوں کے ناقابل بیان مصائب کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ امن کے لیے ہفتوں سے جاری کڑی سفارت کاری کے بعد بھی جنگ بندی نہ ہونا، یرغمالیوں کی رہائی عمل میں نہ آنا اور رفح پر تباہ کن حملہ المناک ہو گا۔

سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ رفح میں بڑے پیمانے پر حملے کا نتیجہ انسانی تباہی کی صورت میں برآمد ہو گا۔ اس سے مزید بے شمار شہریوں کی اموات ہوں گی اور بے شمار خاندان ایک مرتبہ پھر نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ ان کے لیے غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوط نہیں رہی۔علاوہ ازیں اس حملے سے غزہ میں قحط کے خطرے کو روکنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر حملے کے اثرات وہیں تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقبوضہ مغربی کنارہ اور پورا مشرق وسطیٰ بھی اس سے متاثر ہو گا۔ اسرائیل کے بہترین دوستوں نے بھی اس پر واضح کر دیا ہے کہ رفح پر حملہ تزویراتی غلطی ہو گا جس سے سیاسی اور انسانی تباہی جنم لے گی۔

انہوں نے اسرائیل پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید المیے کو روکنے کے لیے ہرممکن طریقہ بروئے کار لائیں۔

Advertisement