جی این این سوشل

صحت

پاکستان میں سیوریج کے مزید چار نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

رواں سال مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد 112 ہو گئی ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان میں سیوریج کے مزید چار نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پہلے سے متاثرہ اضلاع سے لیے گئے سیوریج کے مزید 4 نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 (ڈبلیو پی 1) پایا گیا ہے، جس سے رواں سال مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد 112 ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کی تصدیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو ایریڈیکیشن نے کی جس میں کہا گیا کہ کراچی کے مختلف اضلاع سے جمع کیے گئے 3 اور پشین سے جمع کیے گئے ایک نمونے میں پولیو کی تصدیق ہوگئی ہے۔

نمونے جینیاتی طور پر وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کے درآمد شدہ وائے بی تھری اے کلسٹر سے منسلک ہیں۔ لیب کے ایک اہلکار کے مطابق رواں سال اب تک 33 اضلاع کے سیوریج کے نمونوں میں یہ وائرس پایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال رپورٹ کیے گئے تمام مثبت نمونوں اور 2 انسانی کیسز میں وائے بی تھری اے کلسٹر شامل ہے، جو 2021 میں ملک سے ختم ہو گیا تھا لیکن وہ افغانستان میں موجود تھا اور گزشتہ سال سرحد پار ٹرانسمیشن کے ذریعے دوبارہ ملک میں آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے سیوریج کے پانی کے نمونے پولیو مہم کی کامیابی کا تعین کرنے کے لیے ایک بنیادی پیرامیٹر ہیں، مزید یہ کہ سیوریج میں وائرس کی موجودگی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں بچوں کی قوت مدافعت میں کمی آئی ہے اور ان میں بیماری سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

پاکستان

سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، وزیر اعظم

کم لاگت اور قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام آدمی کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عام آدمی کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت اور قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے، معیشت کو مثبت سمت پرگامزن کرنے کے لیے بھرپورمنصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے، اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا۔عام آدمی کو معاشی تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، بجٹ کے دوران وزراء پارلیمان میں حاضری یقینی بنائیں۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کررہی ہیں، پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کرنے اور شفافیت کو اہمیت دینے کی ہدایت کی جبکہ یو این غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ کی اجازت بھی دی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق کنٹینر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ہوگا، خصوصی اجازت صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،ریسکیو حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کے دوران عمارت گرگئی۔واقعہ لیاقت آباد 10 نمبر میں بورے خان سینٹر پر زیر تعمیر عمارت کو حادثہ پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عہدیداروں کے مطابق عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کا کام چل رہا تھا۔

یاد رہے کہ لیاقت آباد 10 نمبر میں گلیاں انتہائی تنگ ہیں اور بیشتر رہائشی عمارتیں کثیرمنزلہ عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فیصلہ 27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا  معطلی اورمرکزی ایپلوں پرسماعت کی جس سلسلے میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیئے۔

زاہد آصف نے سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلا نے خاور مانیکا کیلئےجھوٹا شخص کے الفاظ استعمال کیے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ مفتی سعید، خاورمانیکا، عمران خان اور بشری بی بی میں سے جھوٹا کون ہے؟

وکیل نے کہا کہ جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کیے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے نے اسی انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے نہیں ہوا،یہ جھوٹا الزام ہے۔

دوران سماعت جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اپیل کنندگان کہتے ہیں چلہ کروایا گیا جس کے بعد شکایت دائر ہوئی اس پر بتائیں، بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے، کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

جج نے سوال کیا جب شکایت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا؟ کیا جو پہلے والی شکایت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں، اور اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں؟ کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکایت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے؟

اس پر وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی، دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں، کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہو وہ وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے؟

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہیے، آج مرکزی اپیل اور سزا معطلی کی اپیل زیر سماعت ہے، میری ذمہ داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہوچکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسیکیوشن نے کہا کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل زاہد آصف کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی۔

بعد ازاں سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے ہیں، عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیئے، سائفر کیس ،توشہ خانہ کیس ،پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی جیسے سینما کی اسکرین کا ٹائم، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے، سائفر کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا تو عدالت نے کہا مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی، میں نے کہا مرکزی اپیل ورنہ میرے لیے آسان تھا سزا معطلی پر دلائل دیتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کردی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلا کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا، سائفر کے پاس توشہ خانہ کیس سامنے آیا، اس کیس میں بھی دوسرے طرف کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، مجھے امید ہے آج بھی دوسری طرف کے وکیل یہی کریں گے، سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے پاس بھی مرکزی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں آئی، جب فیصلہ آنا تھا تو ریفرنس بن جاتا ہے اس کے بعد کیس آپ کے پاس آتا ہے

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ مجھے نہیں معلوم عدالت نے کیا فیصلہ کرنا ہے مگر جو بھی فیصلہ آیا میں سن کر چلا جاؤں گا، مجھے اختلاف ہوگا تو میں اپیل میں چلا جاوں گا، سلمان اکرم راجا نے ٹھیک کہا تھا کہ میں اس کیس میں پیش ہوتا رہا مجھے فیصلہ چاہیے، اگر اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹس میں زیر سماعت ہوں تب بھی ہائی کورٹ کے پاس سزا معطلی کے اختیارات ہیں، میری کوشش تھی بشریٰ بی بی عید سے پہلے گھر آجاتیں ، سلمان اکرم راجا صاحب کا کہنا تھا کہ وہی جج فیصلہ کریں جنہوں نے کیس سنا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے تو ایک ایک چیز بتائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ مکمل طور پر آگاہ ہے کہ نیچے کیا چل رہا ہے، شکایت کنندہ بار بار تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 روز میں سزا معطلی اور 30 دن میں مرکزی اپیلوں پر فیصلے کا کہا ہوا ہے، جب سزا دینی ہو تب فٹا فٹ اور اپیل پر دھیرے دھیرے؟

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو  27 جون کو دن 3 بجے سنایا جائے گا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll