جی این این سوشل

علاقائی

پنجاب اسمبلی میں مخصوص ارکان کی رکنیت معطل

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رکنیت معطل کی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پنجاب اسمبلی  میں مخصوص ارکان کی رکنیت معطل
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مخصوص ارکان کی رکنیت معطل کر دی۔ 

اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں 27 مخصوص نشستیں معطل کی گئیں۔

خواتین اور اقلیتوں کی یہ 27 مخصوص نشستیں حکومتی اتحاد کو ملی تھیں۔

مسلم لیگ ن کے 23 ارکان معطل ہوئے جس کے بعد ایوان میں تعداد 203 رہ گئی ہے۔

اسپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن رکن رانا آفتاب کا مخصوص نشستوں پر پوائنٹ آف آرڈر درست قرار دیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کیا تھا۔

تجارت

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نےقیمتیں مقرر کرنے کا حکومتی اختیارختم کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق قیمتیں بڑھانے کےنتیجے میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،قیمتیں کم ہونے کی صورت میں حکومت کو مطلوبہ عوامی ستائش نہیں ملتی۔جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مرحلہ وار قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر پیٹرولیم نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔چئیرمین اوگرا کو قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قمتیں مقرر کرنے کااختیار دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کاکہناہے کہ کھلا اختیار ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب ناجائز منافع خوری کا خدشہ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد  میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو گا۔
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہیں۔

سیاناسی جماعتیں پاور پالیٹکس میں لگی ہیں، جبکہ عوام کو مہنگائی کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سیاست جمہوریت اور پارلیمان سے مایوس ہو گئے، بجلی،گیس اور پٹرول ٹیکسز کے انبار نے عوام کو برباد کر دیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے، موجودہ حکومت نے دیوالیہ سے بھی آگے ملک کو پہنچا دیا ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں سے قومی معیشت کو پھندہ ڈال دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فارم 47 طرز کی حکمرانی مسلط کی گئی، طلبا سڑکوں پر نکل کر اپنا حق حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کےعوام بھی حکومتی خاندانوں کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں، عوام ان حکمران خاندانوں سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بات کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll