جی این این سوشل

علاقائی

صحافیوں کی جانب سے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت بل 2024 مسترد

حکومت بل بنانے سے باز نہ آئی تو پیرکو اسمبلی اجلاس سے پہلے احتجاج ہوگا، صحافی یونینز

پر شائع ہوا

کی طرف سے

صحافیوں کی جانب سے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت بل 2024 مسترد
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

صحافیوں کی جانب سے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت بل 2024 مسترد کر دیا گیا۔

لاہور پریس کلب میں ہونے والے اجلاس میں سی پی این ای، پی ایف یو جے، کیمرا مین اور فوٹوگرافر ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

صدرلاہور پریس کلب  ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ ارباب اختیار کو پُرامن طور پر اپنے احتجاج سے آگاہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بل بنانے سے باز نہ آئی تو پیرکو اسمبلی اجلاس سے پہلے احتجاج ہوگا۔

صدر سی پی این ای ارشادعارف نے کہا کہ پیمرا، ہتک عزت اورپیکا کے قوانین پہلے سے موجود ہیں، ایسے میں نیا قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال25-2024 کے بجٹ پر بحث جاری

شاہدہ اختر علی نے صحت اور تعلیم کے شعبوں کیلئے بجٹ بڑھانے کی تجویز دی انہوں نے کارکن طبقہ کی تنخواہوں اورمراعات میں اضافے کی بھی تجویز دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال25-2024 کے بجٹ پر بحث جاری

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال25-2024 کے بجٹ پر بحث جاری ہے ۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے زندگی بچانے والی ادویات پر ٹیکس واپس لینے کی تجویز دی تاہم انہوں نے پرتعیش اشیاء پر ٹیکس عائد کرنے کا خیرمقدم کیا ۔

ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زوردیا کہ وہ اپنے اختلافات ختم کریں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جاسکے۔

شاہدہ اختر علی نے صحت اور تعلیم کے شعبوں کیلئے بجٹ بڑھانے کی تجویز دی انہوں نے کارکن طبقہ کی تنخواہوں اورمراعات میں اضافے کی بھی تجویز دی ۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آئین مذہب اور عقیدے کے امتیاز کے بغیر ہرشہری کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور مذہب کے نام پرہجوم کے ہاتھوں قتل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کے فیصلے کو کابینہ کے علاوہ ایوان میں مزید بحث کیلئے پیش کیاجائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ حزب اختلاف اپنے تحفظات اور تجاویز ایوان میں پیش کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی علی امین گنڈا پور گزشتہ روز ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے جس میں عزم استحکام کی منظوری دی گئی ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اس وقت ملک میں تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے، آصفہ بھٹو

نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، رہنما پیپلز پارٹی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اس وقت ملک میں تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے، آصفہ بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، بجٹ میں کسانوں اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔ کیا پاکستان کے لوگ اس عوام دشمن بجٹ کے مستحق ہیں؟ ، ہمیں عام آدمی کے ریلیف کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کے عوام بہتری کے مستحق ہیں، ہمیں بہتر کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب لوگ اپنے نظریاتی عقائد میں تقسیم ہیں، جب اختلافات کو ہتھیار بنا دیا جاتا ہے، اختلاف رائے کو تشدد سے حل کیا جاتا ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم اس ایوان کے منتخب اراکین کی حیثیت سے اٹھیں اور اس پر بات کریں۔ رواداری کو تقریروں اور الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے، ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے، ہمیں تفرقہ انگیز سیاست کو مسترد کرنا چاہیے، عوام کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے۔ ہمیں مل کر لوگوں کو ریلیف دینے کا راستہ تلاش کرنا ہے

آصفہ بھٹو نے کہا ہمیں اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لئے استعمال کرنا چاہے۔ ہمیں ایسے طریقے تلاش کرنے چاہئیں جن سے غریب لوگوں کو براہ راست ریلیف ملے۔ امید ہے ہم سیاست میں ایک نیا دور دیکھنے کے قابل ہوں گے۔ جب صدر پاکستان اتحاد کی بات کرتے ہیں وہ وقت کی ضرورت ہے، کسی بھی مسلئے کا حل الزام تراشی نہیں ہے، اس گرمی میں سندھ میں بجلی نہیں یے، اس قیامت خیز گرمی میں 15 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ عذاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہو گا، امید کرتی ہوں ایک نئے سیاسی کلچر آغاز جلد ہم دیکھیں گے، ہمیں تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا، ہمیں گندم امپورٹ کرنے کے غلط فیصلوں کا بھی سامنا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان تحریک انصاف کی کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالفت

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا آپریشن کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان تحریک انصاف کی کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالفت

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالفت کر دی۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ کسی بھی آپریشن کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی ہو آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ہم اپنے آئینی فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی آپریشن شروع نہ ہو، ہمیں ٹائم نہیں ملا اس لیے ہم نے اجلاس سے واک آوٹ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیرجمہوریت نہیں ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے، اپوزیشن کاسب سے زیادہ کردار ہوتا ہے، پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت مانگی تھی، کوئی بھی کمیٹی آئین کو نظر انداز نہیں کرسکتی، پہلے بھی فوجی آپریشن کے لیے پارلیمان نے آئین میں ترمیم کی، کسی آپریشن کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

 

“اتنے بڑے فیصلے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا”

دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اتنے بڑے فیصلے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا، ایک طرف آپریشن، دوسری طرف فاٹا، پاٹا پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مارشل لا ذہنیت ہے، بہت سے آپریشن ہوئے آج تک کونسا آپریشن کامیاب ہوا؟ میڈیا نمائندگان پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔

“کسی بھی قسم کا آپریشن کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیں”

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا آپریشن کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیں، چین سے آئے ساتھیوں نے واضح طور پر کہا تھا سی پیک پر سیکیورٹی خدشات ہیں، بانی پی ٹی آئی کئی بار کہہ چکے ہیں ملک میں امن رول آف لاء سے آئے گا، ملک میں رول آف لاء ہوگا تب ملک ترقی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی نمائندگی کررہے ہیں، ان کا رویہ اپوزیشن کے ساتھ ٹھیک نہیں، فارم 45 کےتحت پی ٹی آئی کی 180 سیٹیں بنتی ہیں، ایوان میں بات کرنی چاہی تو اسپیکر نے موقع نہیں دیا۔

عمر ایوب نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اینٹی اسٹیٹ ہے، یہ بجٹ اقتصادی دہشتگرد کا بجٹ ہے اسے مسترد کرتے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll