جی این این سوشل

علاقائی

حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی 903 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے بیرسٹر تیمور الطاف 550 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ملتان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا  اور  ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ملتان کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 148 میں ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے،ابتک موصول ہونے والے 5 پولنگ سٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی 903 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے بیرسٹر تیمور الطاف 550 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی، حلقے میں مجموعی طور پر 7 امیدوار میدان میں ہیں، پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی اور سنی اتحاد کونسل کے تیمور الطاف ملک میں کا ٹنے کا مقابلہ ہے۔حلقے میں کل ووٹر کی تعداد 4 لاکھ 44 ہزار 231 ہے جن میں 2 لاکھ 33 ہزار 624 مرد جبکہ 2 لاکھ 10 ہزار 607 خواتین ووٹر ہیں۔

ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہا۔ سخت گرمی کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔ این اے 148 ملتان میں پیپلز پارٹی کے امیدوار علی قاسم گیلانی کو مسلم لیگ ن کی حمایت بھی حاصل ہے اور ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار تیمور  الطاف سے ہے۔

واضح رہے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تیمورالطاف ملک کو شکست دی تھی، بعد میں چیئرمین سینیٹ بننے کے لیے یوسف رضا گیلانی نے یہ سیٹ چھوڑ دی تھی

پاکستان

علی امین گنڈا پور بھی خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر پھٹ پڑے

اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

علی امین گنڈا پور بھی خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر پھٹ پڑے

خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی پھٹ پڑے.

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا، آپ کس طرح بیٹھے ہیں اور کس طرح آپ کو نکالنا ہے مجھے پتہ ہے، واپڈا ہمارے صوبے کے ساتھ زیادتی کررہا ہے، یہ لوگ مینڈیٹ چوری کرکے حکومت میں بیٹھے ہیں، وفاقی حکومت اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی صرف بات نہیں کرتے ہم اس پر عمل بھی کرتے ہیں، جتنا وفاق نے بجٹ پیش کیا اس سے زیادہ ہمارے صوبے کے واجبات رہتے ہیں جو نہیں ادا کیے جا رہے، سی سی آئی سے منظور شدہ صوبے کے 1600 ارب واجبات ہمیں نہیں مل رہے۔ وفاق کے ذمے ہمارے صوبے کے 16ارب روپے واجب الا ادا ہیں، وزیراعظم سے آخری بار کہتا ہوں ہمارے پیسے واپس دو، ہمیں اپنے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے واپڈا کے ساتھ پلان بنایا کہ لاسس والے علاقوں میں سولر لگائیں گے، سولر سسٹم کے لیے 10 ارب روپے مختض کیے جس کے لیے ڈیڑھ مہینے کا وقت مختض کیا،وفاقی منسٹر سے ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہ مل سکا، عوام سے التماس ہے کہ واپڈا کے کسی بھی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچانا کیونکہ یہ ہمارا اثاثہ ہے، تمام ایم پی ایز بھی گرڈ اسٹیشن پر جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیئے، لوڈشیڈنگ ختم کرنا وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، وفاق اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہا، یہ لوگ چوری کا مینڈیٹ لے کر حکومت میں بیٹھے ہیں، اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی بھی فیڈر پر نہیں ہوگی، عوام نے خود بیٹھ کر چوکیداری کرنی ہے کہ 12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کہیں نہ ہو، خیبر پختونخوا کی پولیس واپڈ کے کہنے پر کسی بھی شخص پر ایف آئی آر درج نہیں کرے گی، خیبرپختونخوا کی پولیس واپڈا کی ما تحت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ واپڈ جو زیادتیاں کر رہا ہے تو عوام کو حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ذمہ داران اور پارلیمنٹیرینز عوام کی نمائندگی کریں گے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے، میینڈیٹ چور حکومت میں چوری کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ویراعظم مجھے مجبور کر رہا ہے کہ ان کی حکومت کو دھکے دے کر نکالا جائے، صوبے کا حق بھی لینا ہے اور حق لینے سے کوئی روک نہیں سکتا، میں نے اویس لغاری کو کل کی پیغام بھیجا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا، حکومت سے دوبارہ بات کریں گے مسائل سے آگاہ کریں گے، دوسرے مرحلے میں صوبوں سے نیشنل گرڈ کو بند کروں گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی بجلی بحال کرنے خود گرڈ اسٹیشن پہنچ گئے

گرڈ اسٹیشن پر انہوں نے اپنے اعلان کے مطابق لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے فکس کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی بجلی بحال کرنے خود گرڈ اسٹیشن پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا تنازع شدت اختیار کر گیا اور صوبائی وزیر کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی بجلی بحال کرنے خود گرڈ اسٹیشن پہنچ گئے۔

وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اپنے علاقے کی بجلی بحال کرنے ڈی آئی خان گرڈ اسٹیشن پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے اعلان کے مطابق لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے فکس کر دیا۔ اس موقع پر علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا اب کسی علاقے میں 12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، اراکین اسمبلی  اپنے علاقوں میں گرڈ اسٹیشنز کا دورہ کر کے لوڈ شیڈنگ شیڈول پر عملدرآمد کروائیں۔

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے رکن فضل الٰہی بھی پشاور کے رحمان بابا گرڈ اسٹیشن میں داخل ہوئے اور زبردستی اپنے علاقے کی بجلی بحال کر دی۔ پولیس نے رحمان بابا گرڈ اسٹیشن سے زبردستی بجلی بحال کرانے کی ایف آئی آر تو درج کرلی تاہم مقدمے میں ایم پی اے فضل الہٰی کو نامزد نہیں کیا گیا۔ 

پیسکو حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ  رکن کے پی اسمبلی فضل الٰہی کل رات 11 بجے لائن لاسز والے 10 فیڈرز  پر  زبردستی بجلی بحال کر کے گئے جس سے  پیسکو کو 26 لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ رحمان بابا گرڈ اسٹشین میں لاسز  والے 10 فیڈرز دوبارہ بند کر دیئے گئے ہیں، رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی کے حلقے میں ہائی لاسز والے فیڈرز ہیں اور ان فیڈرز پر 16 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ 

پیسکو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں جہاں لاسز زیادہ ہیں وہاں بھی 16 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جاری ہے تاہم جن علاقوں میں لاسز  نہیں ہیں وہاں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے۔

روسی  میڈیا کے مطابق روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا۔ روسی صدر کو سلامی بھی پیش کی گئی۔

صدر پوٹن  شمالی کوریا کے ساتھ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے کریں گے جبکہ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔  روسی صدر کے وفد میں نئے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف، وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور ڈپٹی پرائم منسٹر الیگزینڈرنوواک بھی شامل ہیں۔

 امریکا کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ روس نے صدر پوٹن کے  دورے کو دوستانہ دورہ قرار دیا  ہے۔صدر پوٹن  کا شمالی کوریا کے دورے کے بعد ویتنام کے دورے کا امکان ہے جہاں مخلتف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روسی صدر پیونگ یانگ کے اسی کُم سوسان گیسٹ ہاؤس میں قیام کریں جہاں 2019 میں شمالی کوریا کے دورے کے موقع پر چینی صدر نے قیام کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں روس کے انتہائی مشرقی علاقے ووسٹوکن کوسموڈروم میں ملاقات ہوئی تھی جبکہ روسی صدر پیوٹن نے اپنی صدارت کے شروعاتی دور میں 2000 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا جب کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل شمالی کوریا کا سربراہ تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll