جی این این سوشل

جرم

معروف امریکی گلوکارہ نکی مناج منشیات اسمگلنگ کے دوران گرفتار

منشیات ملنے پر اداکارہ کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے 25 مئی کو گرفتار کیا گیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

معروف امریکی گلوکارہ نکی مناج منشیات اسمگلنگ  کے دوران  گرفتار
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

معروف امریکی گلوکارہ نکی مناج مشکل میں پڑ گئی ہیں، اپنی گلوکاری کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں چلنے والے واقعات کی بنا پر بھی سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نکی مناج کو منشیات اسمگل کرنے کے الزام مین نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا ہے۔ شیفول ایئرپورٹ پر گلوکارہ کے پاس سے منشیات ملنے پر اداکارہ کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے 25 مئی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتاری اس وقت سامنے آئی ہے، جب نکی مناج نیدرلینڈز میں ایک کنسرٹ میں پرفارم کرنے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تھیں، تاہم سوشل میڈیا گلوکارہ کی جانب سے ویڈیو بھی اپلوڈ کی گئی ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Barbie (@nickiminaj)

جس میں پولیس افسر کو گلوکارہ کی گاڑی کے پاس دیکھا جا سکتا ہے جو کہ کہہ رہا ہے ’ یو آر انڈر اریسٹ’ اسی دوران پولیس افسران گلوکارہ کو گاڑی سے باہر اتر کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے کی درخواست کرتے رہے۔

نکی مناج کی جانب سے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہوئے لکھنا تھا کہ یہ مجھے ہر شو میں شرکت سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے دیکھنے سے پہلے ہی انہوں نے میرا بیگ مجھ سے لے لیا۔ ایئرکرافٹ میں رکھ بھی دیا تھا، اور اب یہ انتظار کر رہے ہیں کسٹمز کا۔

یہ کچھ دکھائی دیتا ہے، جب لوگ بھاری رقم ادا کرنے کے بعد بھی دورے کو ناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ساتھ ہی نکی مناج نے افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ غیر قانونی ہے۔

پاکستان

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، وکیل عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے ؟

اس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے، جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے، وکیل نے بتایا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے ، شریعت کورٹ کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تقی عثمانی نے فیصلہ لکھا ہے تو اسے سائڈ پر رکھ دیں ، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، خاتون کے بیان کو حتمی مانا جائے گا، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عورت پر کوئی بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور پراسیکیوشن پر ڈالا کہ انہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے، عدت کا تصور شرعی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ فراڈ کون کررہا ہے؟ کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا، جج افضل مجوکا نے دریافت کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ 496بی ختم کردیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، چار ماہ وہاں رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورا مقدمہ شادی کے ایونٹ پر بنایا گیا ہے، اگر سیکشن 7 کی خلاف ورزی ہوتی بھی تب بھی کرمنل کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے، جب چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوا تو طلاق کا آئیڈیا نہیں لگایا جا سکتا کہ کب ہوئی، ان کے مطابق 14 نومبر 2017 کو ہوئی اور ہمارا مؤقف ہے کہ طلاق اپریل 2017 کو ہوئی، ایک لمحے کے لیے کہانی 14 نومبر سے شروع کر لیتے ہیں ، 14 نومبر کو اگر دی ہے طلاق تو 90 دن والا تعلق ختم ہوتا ہے کیونکہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوئے، فیملی لا کے سیکشن 7 میں عدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے؟ شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنا ہو تو سزا معطلی پر فیصلہ نہ بھی کریں تو مسئلہ نہیں ہوتا، اس کیس میں ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہے کہ سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر ٹائم فریم کے مطابق فیصلہ دینا ہے، شوہر کی وفات کے بعد عورت کو وراثت کی محرومی سے بچانے کے لیے عدالت نے عدت کا دورانیہ 90 دن ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، میں سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر فیصلہ کرناہے۔بعد ازاں سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی۔

وکیل نے کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیا کہ نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیا، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، دو فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

جج افضل مجوکا نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 2 روز میں فیصلہ دے دیا؟ وکیل نے بتایا کہ ہم 14، 14 گھنٹے دو روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا آج ہی سب کریں، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلان جنگ تھاکہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہےکہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

اس کے بعد خاور مانیکا کا انٹرویو کو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انٹرویو میں اینکر نے بھی سابقہ کا لفظ استعمال کیا، خاور مانیکا نے بھی سابقہ اہلیہ کہا، ٹرائل کورٹ میں خاورمانیکا نے جھوٹ بولاکہ انٹرویو دیتے وقت بشریٰ بی بی سابقہ اہلیہ نہیں تھیں، خاورمانیکا ایک جھوٹا شخص ہے، عدالت میں جھوٹ بولا۔

اس پر وکیل شکایت کنندہ زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وکیل عمران خان نے بتایا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، میں مفتی سعید کا جھوٹ بھی عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کوئی شائستہ لفظ نہیں۔

بعد ازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، سماعت سوموار تک ملتوی کرنی ہے تو میں سوموار کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجا اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو سماعت کرنا ممکن نہیں ہے، منگل کو سماعت کریں گے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، فاروق ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بجٹ کو ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تمام اپوزیشن الائنس پارٹیوں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، آئی جی پنجاب وزیر وزیراعلی پنجاب کا ٹاؤٹ ہے، ہم پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ہمارے اراکین احتجاج میں شرکت کریں گے ہمارے اراکین کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے، ان کی گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔

 ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے صوبائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا امید ہے کہ وہ خود ہی معاملہ حل کر لیں گے جس پر جمشید دستی اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہماری بات کو سنا جائے یہ سیدھی سیدھی بدمعاشی ہے۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ اور جمشید دستی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ڈپٹی اسپیکر نے جمشید دستی کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، اگر آپ شور شرابہ اور بدمعاشی کرنا چاہتے ہیں تو میں اجلاس ملتوی کردوں گا، آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ کیسے اجلاس چلانا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے بجٹ 2024-25پر بحث کا آغاز کرواتے ہوئے مائیک ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر روایتی بجٹ دے دیا گیا، ملکی سلامتی کے خلاف ایسا بجٹ نقصان دہ ہے، اسٹیٹس کو کی کوک سے روایتی بجٹ جنم لیتا ہے، 77 سال سے ہر سال ایک جیسا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کی 4 سال کی حکومت میں بھی روایتی بجٹ پیش کیا گیا، روایتی بجٹ دینا ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ ہے، عوام دوست، کاروبار دوست بجٹ نہیں بنایا گیا، زمینداروں اور سرمایہ کاروں کو کیا ٹیکسز میں چھوٹ دیتے رہیں؟ دنیا ٹیکس فری رجیم پر جارہی ہے۔

رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ہی بھاری ٹیکسز لگائے گئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ جب اپوزیشن میں تھی تو پیٹرولیم لیوی کی مخالفت کی، ہمیں بجٹ میں تیل، گیس اور پانی کے بلوں میں کمی کرنا ہوگی۔ پاکستان سے سرمایہ باہر جارہا ہے، ملیں بند ہورہی ہیں، 12 لاکھ نوجوان پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جارہے ہیں، ظلم بند کریں، عام شہریوں پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، بجٹ میں جاگیرداروں، وڈیروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، آپ بجلی کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ کرتے جارہے ہیں، مہنگائی، بےروزگاری پاکستانی عوام کے بنیادی مسائل ہیں، بے روزگاری کی شرح میں 15 فیصد ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے، بچے شہید ہورہے ہیں، احساس محرومی اب احساس بغاوت میں بدل رہا ہے، ڈریں اس وقت سے جب مظفرآباد کی طرح باقی ملک میں عوام سڑکوں پر آجائے، صرف قومی مفاہمت اور ایجنڈے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے، سب سیاسی جماعتیں سرجوڑکر بیٹھیں یہ کسی ایک جماعت کے بس میں نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll