جی این این سوشل

تجارت

آئی ایم ایف کا پاکستان کی معیشت سے متعلق نیا تخمینہ جاری

نئے مالی سال میں پاکستان کےتجارتی خسارے میں 4 ارب 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز اضافے کا امکان ہے، آئی ایم ایف

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آئی ایم ایف کا پاکستان کی معیشت سے متعلق نیا تخمینہ جاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کےتجارتی خسارے میں اضافے کی پیشگوئی کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے نئے مالی سال میں پاکستان کی برآمدات اور درآمدات میں اضافے کا تخمینہ لگایا ہے، نئے مالی سال میں پاکستان کےتجارتی خسارے میں 4 ارب 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز اضافے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی درآمدات میں 5 ارب 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز جبکہ برآمدات میں ایک ارب 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔ آئندہ مالی سال میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 27 ارب 92 کروڑ ڈالرز سے متجاوز ہوسکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے نئے مالی سال میں پاکستان کی درآمدات کاحجم 60 ارب 48 کروڑ ڈالرز اور برآمدات کا حجم 32 ارب 56 کروڑ ڈالرز رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

دوسری جانب ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کا تجارتی خسارہ 23 ارب 76 کروڑ ڈالرز رہنے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک برآمدات 31 ارب 20 کروڑ ڈالرز پر پہنچنے کا امکان ہے۔ 

علاقائی

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،ریسکیو حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کے دوران عمارت گرگئی۔واقعہ لیاقت آباد 10 نمبر میں بورے خان سینٹر پر زیر تعمیر عمارت کو حادثہ پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عہدیداروں کے مطابق عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کا کام چل رہا تھا۔

یاد رہے کہ لیاقت آباد 10 نمبر میں گلیاں انتہائی تنگ ہیں اور بیشتر رہائشی عمارتیں کثیرمنزلہ عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی آبادی کے مقابلے میں بجٹ زیادہ مختص کیا گیا ہے، ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب میں باقی پنجاب سے دس فیصد زیادہ لیپ ٹاپ دیئے، جنوبی پنجاب میں وفاقی حکومت کے منصوبے پنجاب نے بنائے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے کا اعلان ہوچکا ہے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈبلیوڈی میں بندربانٹ ہوتی تھی، پی ڈبلیوڈی محکمےکوختم کرنےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ میں ناقابل بیان کرپشن ہوتی ہے، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ڈاؤن سائزنگ کے لئے کمیٹی بن چکی ہے، اخراجات میں کمی کے حوالے سے نتائج ایوان میں پیش کریں گے۔

آخر میں وزیر اعظم میاں شہبازشریف کا اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ حکومت اخراجات میں کمی کررہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ استحکام کیلئے یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کیلئے پارلیمان میں اُن لوگوں کو ہونا چاہئے جو اسکے حق دار ہیں۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، ریحانہ ڈار کی جگہ فارم 47 والوں کو بٹھا دیا گیا، عمران خان کی رہائی کا فی الفور مطالبہ کرتے ہیں، رہا ہونے کے بعد ہماری خواتین کو دوبارہ گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آج بجٹ کے اسپیشل سیشن میں پارلیمنٹ سے لے کر الیکشن کمیشن تک واک کی، خان صاحب اور بشریٰ بی بی سمیت ہماری بہنوں کی رہائی کے لیے واک کی گئی، ہماری بہنوں کو ایک بار رہائی کے بعد دوبارہ سے گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے لوگوں کو رہائی نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام پر کسی بھی قسم کا آپریشن نامنظور ہے، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں سارا کا سارا نزلہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام پر گرانے کی کوشش ہے، شہباز شریف کہتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کے لیے آپریشن چاہیے بتائیں خیبرپختونخوا میں کتنی صنعتیں ہیں؟ سرمایہ کاری اس لیے نہیں آرہی کیونکہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ یہ صرف 180 پارلیمنٹرینز کی واک نہیں 3 کروڑ ووٹرز کی واک ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ہم نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی، کوئی بھی فیصلہ ہو اس مسئلے کو ایوان میں لایا جائے، حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے یہ ملک استحکام کے لیے آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کے لیے اس ایوان میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کا حق ہے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ واحد پارٹی پی ٹی آئی ہے جس میں ڈیڑھ سال میں تین بار انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے، عوامی نیشنل پارٹی کا الیکشن ہی نہیں ہوا اس کو 20 ہزار جرمانہ کیا گیا،ایک ملک میں دو قوانین نہیں چلنے دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll