جی این این سوشل

دنیا

اسرائیل نے مصر کے ساتھ غزہ کی پوری سرحد پر قبضہ کر لیا

اسرائیلی فورسز نے علاقے میں کھلنے والی 82 سرنگوں کا کنٹرول بھی ہاتھ میں لے لیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسرائیل نے مصر کے ساتھ غزہ کی پوری سرحد پر قبضہ کر لیا
اسرائیل نے مصر کے ساتھ غزہ کی پوری سرحد پر قبضہ کر لیا

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان فلاڈیلفیا کے محور کا مکمل آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہم نے فلاڈیلفیا کے پورے محور کا کنٹرول سنبھال لیا، حماس نے فلاڈیلفیا محور میں بنیادی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ رفح گزرگاہ کے علاقے میں ایک 1500 میٹر لمبی سرنگ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور اسرائیلی فورسز نے علاقے میں کھلنے والی 82 سرنگوں کا کنٹرول بھی ہاتھ میں لے لیا ہے، ان سرنگوں کو بعد میں تباہ کرنے کے لیے ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی اور مصر کی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفیا کے محور کے 75 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے تحت فلاڈیلفیا محور کوبفر زون سمجھا جاتا ہے لیکن مصر کی سرحد پر واقع شہر رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے دو ہفتے بعد صہیونی فوج نے اس حصے کو بھی کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی کنٹرول کے بعد اس بفرزون علاقے کی حیثیت اور امن معاہدے کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی افواج نے رفح کے وسط میں پیش قدمی کی اور فلاڈیلفیا کے آدھے سے زیادہ محور پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس علاقے جکوصلاح الدین روڈ بھی کہا جاتا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے شہر پر حملے بند کرنے کے حکم کے باوجود اسرائیل نے جنوبی غزہ میں رفح پر مہلک حملے جاری رکھے، جہاں غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے نصف پہلے پناہ لیے ہوئے تھے۔

پاکستان

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر


لاہور:  جرمن سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے پاکستان اور جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارت میں توسیع، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے آپشنز کی نشاندہی کے لیے کاروباری وفود کے دوطرفہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) لاہور کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ہے۔ ان کے ساتھ جنین روہور، فرسٹ سیکرٹری اکنامک اینڈ پولیٹیکل اور ڈاکٹر سیبسٹین پاسٹ، ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن بھی تھیں۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

جرمن سفیرنے کہا کہ حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو جرمنی میں سپلائی چین کے ضوابط کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ان کے مطابق جرمن ترقیاتی تعاون پاکستان میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرے گا۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے مکمل لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ اپٹما لاہور کے احاطے کی پیشکش کی۔ جرمنی کے ویزوں کے اجراء میں تاخیر کے حوالے سے سفیر نے کاروباری ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کی تفصیل سے وضاحت کی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگر درخواست دہندگان کی طرف سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کاروباری مقاصد کے لیے ویزے دو ہفتے کے وقت کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین اپٹما نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس میں مزید 10 سال کی توسیع سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور شفافیت وغیرہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں پاکستان اور جرمنی کے درمیان 45 ملین یورو کے تکنیکی تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی ضروریات کے بارے میں تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اپٹما کے اراکین کو ویزوں کے فوری اجراء کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق،جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات تک رسائی کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنے حریفوں جیسے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ سے مقابلہ کر سکیں، جس سے پاکستان یورپی یونین میں اپنی 4 مصنوعات میں سے 78 فیصد ڈیوٹی فری برآمد کرنے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سہولت نے 2013 سے 2024 تک یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 73 فیصد اور جرمنی کو 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔انہوں نےجرمن سفیر کو بتایا کہ اپٹما کے اراکین جی ایس پی پلس کے 27 کنونشنز کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور نئے کنونشنز کی تعمیل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت نے ترجیحی ریشوں جیسے آرگینک، بی سی آئی کاٹن اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور فضلہ اور پانی کی صفائی کے پلانٹ لگانے، سبز ماحول اور سماجی طور پر ذمہ دار صنعت کو مغربی دنیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے قابل بنانا ہے۔

اپٹما کے سابق چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے جی ایس پی پلس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا پلس قرار دیتے ہوئے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم میں خود کار ڈائریکٹرتعینات

عمر فاروق خان فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر مسعود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم میں خود کار ڈائریکٹرتعینات

وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نئے ڈائریکٹر تعینات کر دیے۔

 اعلامیے کے مطابق پاور ڈویژن کی جانب سے آئیسکو، فیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو اور حیسکو کے لیے خودمختار ڈائریکٹر مقرر کر دیے

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 11 میں سے 6 سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نئے بورڈز تشکیل دیے گئے ہیں، نئے ڈسکوز بورڈز کی تشکیل 3 سال کے لیے ہو گی۔

عمر فاروق خان فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر مسعود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔

عامر ضیاء لاہور اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کے چیئرمین تعینات ہوئے ہیں جبکہ حمایت اللہ خان پشاور اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کے چیئرمین ہوں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈائریکٹرز کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے پر نئے بورڈز تشکیل دیے گئے، وزیر برائے پاور کی سربراہی میں بورڈ نامزدگی کمیٹی نے بورڈز تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 24 جون کو 9 ڈسکوز کے نئے بورڈز تشکیل دینےکی منظوری دی تھی جبکہ وزیراعظم نے حیدر آباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے بورڈز کی تشکیل نو کا معاملہ روک دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

کوئٹہ : کوئٹہ تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔ 

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا ۔ 

زلزلہ پیما کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll