جی این این سوشل

صحت

ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں جاں بحق بچوں کی تعداد 5ہوگئی

ہسپتال ذرائع کے مطابق  ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں گذشتہ روز آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں جاں بحق بچوں کی تعداد 5ہوگئی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ساہیوال : ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے باعث مزید ایک بچی دم توڑ گئی ۔ جاں بحق بچوں کی تعداد 5ہوگئی۔  

ہسپتال ذرائع کے مطابق  ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں گذشتہ روز آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ آگ اور دھوئیں کے اثرات سے مزید 1 بچی جا  ں بحق، مرنے والے بچوں کی تعداد 5 ہو گئی ۔ 

 جاں بحق بچی کے والد ریاض  کا کہنا ہے کہ وارڈ میں آگ لگنے کے بعد دو گھنٹے تک سعدیہ کو آکسیجن ہی نہیں ملی۔ آگ اور دھوئیں کے اثرات اور آکسیجن نہ ملنے سے بچی کی حالت زیادہ تشویشناک ہوگئی۔  جاں بحق ہونے والی بچی کی عمر 9 ماہ تھی اور اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔   

تجارت

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے جبکہ سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے  750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ میں نے ڈیٹا شیئر کرکے چالیس خاندانوں کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان سے ملک کو بچایا جائے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پاور پلانٹس 20 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہے ہیں، ان آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہے اور بقایا 160 ارب روپے کی تصدیق ہورہی ہے، حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 150 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد سے کم ہے۔

سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 140 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد ہے، ایک ایسے پاور پلانٹ کو 120 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہا ہے، حکومت 22 فیصد لوڈ پر چلنے والے پلانٹ کو 100 ارب روپے ادا کررہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، حل صرف ایک ہی ہے" نو کپیسٹی پیمنٹس"، آئی پی پیز کو صرف بجلی کے پیداوار کی رقم ادا کی جائے، آئی پی پیز کے ساتھ بھی دیگر کاروبار کی طرح سلوک کیا جائے۔

گوہر اعجازکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت کے اور 28 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ، ہم 60 روپے فی یونٹ ان کرپٹ معاہدوں کی وجہ سے ادا کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

 جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہیے، اسلام آباد میں آج جناح میڈیکل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا ہے، یہ منصوبہ نوازشریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر میں نرسنگ اسکول اور لیبارٹریز بنیں گی، غریب کا علاج 100 فیصد ہوگام، غریب کاحق ہےکہ صحت اورتعلیم کی سہولت ان کی دہلیز پر دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی جدید ترین سہولیتیں اس ہسپتال میں ہوں گی، عوام کی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر موذی امراض کا سینٹر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی پہلے دن سے اس پر کام شروع کیا، چیئرمین حبیب بینک،پرنس رحیم آغا خان کے صاحبزادے نے تمام تکنیکی معاونت دی ہے، امریکا میں ان کے کنسلٹنٹ سے میٹنگ ہوئی جنہوں نے آغا خان ہسپتال بنایا، پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان سے والہانہ محبت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کنسلٹنسی مفت دی ہے، اس ہسپتال کیلئے 600کنال زمین مختص کی گئی ہے، یہ وہی ماڈل ہے جس کا پورے پاکستان میں میرے قائد نوازشریف نے اجرا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور صاحب حیثیت کو اللہ نے جائز حلال وسائل دیئے ہیں، اشرافیہ اور صاحب حیثیت دنیا میں کہیں سے بھی علاج کراسکتے ہیں، غریب آدمی علاج کیلئے کہاں جائے گا؟ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت سٹی سکین مشینیں لگائیں، ہم نے لیبارٹری ٹیسٹ پر بھی 10روپے فیس رکھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کا حق ہے کہ اس کی دہلیز پر تعلیم اور علاج مفت پہنچایا جائے، ایک منصف نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، پی کے ایل آئی بننے سے پہلے مریض جگر کے علاج کیلئے ہندوستان جاتے تھے، گردے کی پیوند کاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج پی کے ایل آئی میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اب یہاں جناح میڈیکل سینٹرمیں مفت علاج ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2011آپ کو یاد ہوگا 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، میں نے کہا تھا اندھیرے ختم کردیں گے ،اس بات پر بہت مذاق اڑایا گیا، نوازشریف کی قیادت میں 2013سے18تک ملک میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کی تعمیر کے ذمہ داروں کو کہا ہے مجھے یہ جناح میڈیکل سینٹرایک سال میں مکمل چاہیے، ایک سال بڑا چیلنجنگ ٹائم ہے، یہاں پر 24گھنٹے دن رات کام ہوگا، کل پاکستان کے شاندار آئی ٹی پارک کے دورے پر گیا تھا، ہدایت کی ہے آئی ٹی پارک کو ایک سال میں مکمل کریں، اس ہسپتال کیلئے جتنے وسائل چاہئیں ہم مہیا کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس، چھٹی کے روز بھی نیب کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش

نیب ٹیم تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ کل عدالت پیش کرے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس، چھٹی کے روز بھی نیب کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش

توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں قومی احتساب نیورو (نیب) کی ٹیم نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین، سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی سے آج بھی تفتیش کر رہی ہے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر کی سربراہی میں اس وقت اڈیالہ جیل میں موجود ہے، جو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے آج بھی تفتیش کررہی ہے۔

جیل ذرائع کے مطابق نیب ٹیم کا اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا ساتواں روز ہے جبکہ نیب ٹیم تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ کل عدالت پیش کرے گی۔گزشتہ روز بھی نیب ٹیم نے تقریبا پونے گھنٹہ تک بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے تفتیش کی، ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی تھی۔

دوران تفتیش عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تحفے میں ملنے والی بلگیری جیولری سیٹ سے متعلق بھی سوالات کیے گئے تھے۔نیب نے ملزمان کا احتساب عدالت سے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے، ملزمان کو 22 جولائی کو تفتیشی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 13 جولائی کو عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد قومی احتساب بیورو نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا جبکہ ملزمان کا 14 جولائی کو اڈیالہ جیل میں جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کے لیے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کیا تھا، نوٹیفکیشن نیب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 16 بی کے تحت جاری کیا گیا۔

اس میں بتایا گیا کہ امن امان کی صورت حال کے پیش نظر نیب عدالت اگر ضروری سمجھتی ہے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ٹرائل جیل میں کرے۔

جیل ٹرائل نوٹیفکیشن سے متعلق سابق وزیر اعظم اور سابق خاتون اول کے وکلا کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll