جی این این سوشل

تجارت

24 سرکاری اداروں کی نجکاری ہو سکتی ہے ، وزیر نجکاری

ایک اور سوال پر وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے کہا کہ تمام فیلڈ انسورسمنٹ یونٹس کو لوہے اور سٹیل کی اشیاء کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے چوکس کردیا گیا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

24 سرکاری اداروں کی نجکاری ہو سکتی ہے ، وزیر نجکاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 وزیرنجکاری عبدالعلیم خان نے کہا کہ حکومت آئندہ برسوں میں تقریبا چوبیس سرکاری اداروں کی نجکاری کی خواہاں ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال پر وزیرنجکاری عبدالعلیم خان نے کہا کہ ان کمپنیوں میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز ریزولٹ ہوٹل، فرسٹ ویمن بنک، یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن اوربجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں ، ایک اور سوال پر وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے کہا کہ تمام فیلڈ انسورسمنٹ یونٹس کو لوہے اور سٹیل کی اشیاء کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے چوکس کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران سٹیل کی سات لاکھ پچاسی ہزار اٹھائیس کلوگرام اشیاء ضبط کی گئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ غلط اعلان یا کم وزن کا پتہ لگانے کیلئے تمام کھیپ کا دوبار وزن کیا جاتا ہے۔

 

 

پاکستان

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی، چیئرمین پیپلز پارٹی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت کے بغیر ملک کے بنیادی معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے، ان کو روٹی کپڑا مکان، غربت اور مہنگائی میں دلچسپی ہے۔عوام چاہتے ہیں ان کے مسائل کا حل پیش کریں، شہبازشریف نے وزیراعظم بنتے ہی چارٹرآف اکانومی کی بات کی، چارٹرآف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہو سکتا، ازخود فیصلہ نہیں ہوسکتا، چارٹرآف اکانومی پرسب سےمشورہ، اتفاق رائے کرنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کو بھی دعوت دی جانی چاہیے تھی، ہم مشاورت کرتے تو ہماری سیاسی طور پر بھی جیت ہوتی اور معاشی طور پر بھی بہتر فیصلے لیتے، پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ دعا ہے وزیراعظم کی ٹیم اور ہم مل کر ملک کو ان حالات سے نکالیں، الیکشن میں معاشی لحاظ سے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا تھا، ہم جب الیکشن لڑرہے تھے تو کہا جاتا 5سال پہلے معاشی حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں؟، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت بننے پر پی پی، ن لیگ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا، حکومت کوپی ایس ڈی پی بجٹ ہمارے ساتھ مل بیٹھ کربنانا چاہئے تھا۔ حکومت پالیسیوں کےنتیجےمیں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، امید کرتے ہیں حکومت مہنگائی میں کمی کیلئے پالیسیاں جاری رکھےگی، بجٹ میں بی آئی ایس پی میں27 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ہم ٹیکس بیس میں اضافے،غریبوں پرٹیکس نہ ڈالنےکاکہتےہیں، بجٹ میں بڑے لوگوں کو پکڑنے،عام آدمی کوریلیف پہنچانےکا کہتے ہیں، ہم ابھی تک عوام کو ریلیف پہنچانےمیں ناکام رہے، ہربجٹ ان ڈائریکٹ ٹیکس پرزور دیتا ہےاورنقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔ ہم نے تجویز کیا تھا کمپنیوں سے لے کر کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے، فرٹیلائزڈ کمپنیوں کو حکومت اربوں کی سبسڈی دلواتی ہے، وزیراعظم کو مشورہ ہے آگے قدم بڑھائیں ان بڑی بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئے ، پیپلز پارٹی لابیز کا مقابلہ کرنے کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک اپنے کسانوں کو اربوں روپے کی سپورٹ کرتا ہے، ہم اگر اپنے کسانوں کو آدھی سپورٹ بھی دیتے ہیں تو ہمسایوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم کسانوں کی سپورٹ سے دنیا میں فوڈ سکیورٹی کے بحران کی بھی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس بجٹ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کس طرح کسانوں پر مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں، نگران حکومت کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہوا ہے، امکان ہے اب بھی کسانوں کو نقصان ہوگا، ہم زرعی شعبے کی مدد کرکے اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج اور آنے والے وقت کا اہم مسئلہ موسمی تبدیلی ہے، پاکستان کے عوام کو ہیٹ ویو اور سیلاب کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پوری دنیا موسمی تبدیلی سے پریشان ہے، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد سب سے بڑی برف کی تعداد ہمارے ناردرن ایریاز میں موجود ہے،  پاکستان تھرڈ پول کے طور پرجانا جاتا ہے، دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہمارا کیا ہوگا جب ہمارے پہاڑوں کی برف پگھلے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کووفاق کیلئےسیلز ٹیکس آن گڈزاکٹھا کرنے کا اختیار دیاجائے، پیپلزپارٹی نےعوامی معاشی معاہدےکےاتحت الیکشن لڑا، وزیر اعظم کی ابتدائی تقریرمیں پیپلزپارٹی کےچندنکات شامل تھے، وزیراعظم سےاپیل ہےبڑےلابیزکامقابلہ کرنےکیلئےقدم بڑھائیں، وزیراعظم قدم بڑھائیں پیپلزپارٹی آپ کےساتھ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا، حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

ہرنائی کے علاقے زرغون غزسے اغواء 10 افراد میں سے مزید 3 کو چھوڑ دیا گیا۔

حکام کے مطابق اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا۔

دوسری جانب زرغون غز  سےاغوا کیاگیا ایک نوجوان گھر پہنچ گیا ہے جس کی تصدیق اس کی فیملی کی جانب سے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ہرنائی کے علاقے زرغون سے 19 جون کومسلح افراد نے 14 افراد کو اغوا کیاتھا جس میں سے 4 کو پہلے اور تین کو اب چھوڑا گیا ہے۔

لیویز ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے زرغون غر میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح سیر و تفریح کے لیے جانے والے 14 افراد کو اغوا کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ تمام افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیل طیاروں نے شمالی غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ان کی بہن سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں شہید ہونے والوں میں اسماعیل  ہنیہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے۔

دوسری جانب صہیونی فوج نے غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر حملہ کر دیا، جس کے سبب مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی فوج نےخان یونس میں غذائی قلت سےدوچار فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔

24گھنٹوں کے دوران 28 فلسطینی اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بنے، شہدا کی مجموعی تعداد 37ہزار 626 سے تجاوز کر گئی، جبکہ 86 ہزار 98 زخمی افراد زخمی ہیں۔حکام کے مطابق ہزاروں فلسطینی بچے تاحال ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll